Deutsche / Roman Urdu / کالم ایڈئٹر / چنگاری فورم / آئی ایم ٹی نیوز / کتابیں / مارکسی تعلیم / ادبی سنگت / عورتیں/ نوجوان / مزدور تحریک / انٹرنیشنل / لاطینی امریکہ / مشرق وسطی / یورپ / ایشیا / پاکستان /
پاکستان کے بکھرتے خونی لتھڑے
پاک فوج کی طرف سے حالیہ ضرب عضب کی کامیابی اور فتح کے لیے کی گئی پریس کانفرنس کی بازگشت ابھی تھمی بھی نہیں تھی کہ پاکستان ایک بار پھر خون میں ڈوب گیا ۔ جو حکمرانوں ، فوجی جرنیلوں اور ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے
ٹرمپ کا انتشار
اب امریکی ریاست اور اس کے سنجیدہ حکمرانوں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ٹرمپ کو روکیں یا اسے راستے سے ہٹا دیں یا پھر اپنی بربادی کا تماشا خود دیکھیں
پیش لفظ .کتاب ،، جلتا گوبل
انسانی کرہ ارض کو عالمی حکمرانوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد آج کسی تیسری عالمی جنگ کی عدم موجودگی میں نام نہاد امن اور جمہوریت کے نام پرسب سے زیادہ لوگوں کا قتل عام ، قحط ، سب سے بڑی ہجرتیں ، ملکوں اور خطے کی تباہی اور خون میں ڈبو دیا ہے
علم و ادب پر رجعت کی یلغار
اور ایسا لگتا ہے کہ اللہ کو مانے سے قتل کا لائسنس مل جاتا ہے اور مسلمان ہونے سے دوسروں کو کافر اور اقلیت کہنے کا حق مل جاتا ہے جو جہالت اور غیر انسانی سوچ کا اعکاس ہے
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی پچاس سالہ جدوجہد کے اسباق
طلبہ تنظیم سے بڑھ کر یہ نوجوانوں کی ایک سیاسی درسگاہ اور تجربہ گاہ رہی ہے۔ کسی عوامی جماعت کی سر پرستی کے بغیر ہی یہ تنظیم نصف صدی تک پھیلے ہوئے طویل عرصے پر محیط عروج و زوال کی ایک دلچسپ اور سبق آموز داستان اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے
پیش لفظ ۔ کس کا پاکستان
انیس سو سنتالیس میں جن آنکھوں نے آزادی ، امن اور خوشحالی کا خواب دیکھا تھا آج پتھرا چکی ہیں یا پھر خون کے آنسو رو ر رہی ہیں ۔ پاک سر زمین کے لیے جدوجہد کرنے والے آج اپنی جدوجہد سے شرمندہ ہیں
ٹرمپ کی جیت۔ معجزات کے دور کا آغاز
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایک طرف بڑا بدمعاش (ٹرمپ)اور دوسری طرف چھوٹی بدمعاش( ہلیری) تھی ۔ عوام ہر بار چھوٹے بدمعاش کو ووٹ دیکر دیکھ چکے تھے اس لیے انہوں نے اس بار روٹین ازم کے خلاف ووٹ دیا
پی ٹی آئی ۔ ریاستی اداروں کی بے اعتباری پر اعتبار
موجودہ نطام میں اور اسکی عدالتوں میں فیصلے انصاف کے مطابق نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی اور ہر فوجی آمریت اور عوام پر ہر بربریت کو عین قانون اور عین آئین قرار دیا
شام، عراق اور سامراجی منافقت
سفارتکاری کے دو مقاصد ہیں: ایک یہ کہ جنگ کے اصل محرکات اور عزائم کی اپنی عوام سے پردہ پوشی کی جائے اور دوسرا جنگ کی تمام ہولناکی اور جرائم کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جائے۔
یورپی اتحاد کو خطرہ http://www.classic.chingaree.com/products/1456239514_EU01.jpg
محنت کش عوام کی خوشحالی ہی یورپ کے اتحاد اور استحکام کی ضمانت ہے جو سرمایہ داری کے تحت اب ممکن نہیں ہے۔ یورپ کے اتحاد اور استحکام کو منڈی کے نظام سے خطرہ ہے مہاجرین سے نہیں
مزید آرٹیکل

ایشیا

سقوطِ ڈھاکہ: 45سال بعد! کیا کھویا، کیا پایا
آج سے 45سال قبل اس وقت کے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) نے موجودہ تاریخ کا بدترین قتل عام دیکھا
پاک بھارت کشیدگی: طبقاتی جنگ کیخلاف قومی جنگ کاجنون
یک دفعہ پھر دونوں جانب سے حب الوطنی کے پژمردہ جذبات کو بڑھاوا دینے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے سماج میں جہاں سرحد کے دونوں جانب بھوک، بیماری، بیروزگاری اور ذلت کی بہتات ہے
کشمیر: سامراجی ریاستوں کے جبر سے آزادی کی تحریک
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حالیہ ابھرنے والی تحریک شدید ترین ریاستی جبر کے باوجود ابھی تک جاری ہے
« ہندوستان: انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عام ہڑتال۔۔ حکمران لرز اٹھے
یہ ہڑتال ہندوستان اور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال تھی جس میں 18کروڑ سے زیادہ محنت کشوں نے حصہ لیا
« افغان مہاجرین: سامراجی جنگوں کی بربادی کے نشان
افغانستان میں سامراجی عزائم میں پسپائی کے بعد پاکستانی ریاست کے چہرے سے منافقانہ سفارتکاری کا نقاب اتر چکا ہے
« دہلی سے آزادی کشمیر کی پکار
کشمیر میں قومی آزادی کی جدوجہد اتار چڑھاؤ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن سات دہائیوں میں اسے ختم نہیں کیا جاسکا
« زر کا زہر
پاکستان میں یا تو جنرل راحیل شریف ڈبل گیم کھیل رہا ہے، یا پھر فوج ہندوستان سے مصالحت کے خلاف ہے یا پھر فوج اور آئی ایس آئی اندر سے منقسم ہیں
« افغانستان کا کہرام
فغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کو ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ 9 ہزار امریکی فوجیوں سمیت تقریباً 13 ہزار نیٹو فوجی ابھی بھی افغانستان میں موجود ہیں
« ہندوستان: فریب جلد ٹوٹے گا
سرمایہ دارانہ نظام میں بڑی سے بڑی جمہوریت بھی سرمائے کی غلام ہے اور داخلہ و خارجہ سے لے کر تمام پالیسیاں اور منصوبہ بندی سرمائے کے آقاؤں کے مفادات کے لیے ترتیب دی جاتی ہیں
« ثور انقلاب: تاریخ افغانستان کا درخشاں باب
جنوبی ایشیا کی تاریخ میں سب سے ریڈیکل سماجی، معاشی اور ثقافتی اصلاحات کا آغاز ثور انقلاب کے بعد افغانستان میں ہوا تھا
« ہندوستان کے انتخابات: معاشی بحران میں جمہوریت کا کھلواڑ
کانگریس جو گزشتہ دس سال سے بر سر اقتدار ہے اس کے خلاف عوامی نفرت اور غم و غصے کی وجہ سے اس کو تاریخ کی بد ترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے
« افغان ثور انقلاب کے چونتیس سال۔ جب تخت گرائے اور تاج اچھالے گئے
انقلاب میں محنت کش طبقے کی سر گرم شمولیت کے بغیر کبھی بھی ایک صحت مند مزدور ریا ست تعمیر نہیں کی جا سکتی
« افغانستان؛ خاک میں لتھڑاہوا،خون میں نہلایاہوا
افغانستان میں جاری یہ جنگ و بربریت محض پچھلے دس سالوں کا نہیں بلکہ چالیس سالوں کا قصہ ہے

مزید پڑھیں

مطبوعات