Deutsche / Roman Urdu / کالم ایڈئٹر / چنگاری فورم / آئی ایم ٹی نیوز / کتابیں / مارکسی تعلیم / ادبی سنگت / عورتیں/ نوجوان / مزدور تحریک / انٹرنیشنل / لاطینی امریکہ / مشرق وسطی / یورپ / ایشیا / پاکستان /
پاکستان کے بکھرتے خونی لتھڑے
پاک فوج کی طرف سے حالیہ ضرب عضب کی کامیابی اور فتح کے لیے کی گئی پریس کانفرنس کی بازگشت ابھی تھمی بھی نہیں تھی کہ پاکستان ایک بار پھر خون میں ڈوب گیا ۔ جو حکمرانوں ، فوجی جرنیلوں اور ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے
ٹرمپ کا انتشار
اب امریکی ریاست اور اس کے سنجیدہ حکمرانوں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ٹرمپ کو روکیں یا اسے راستے سے ہٹا دیں یا پھر اپنی بربادی کا تماشا خود دیکھیں
پیش لفظ .کتاب ،، جلتا گوبل
انسانی کرہ ارض کو عالمی حکمرانوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد آج کسی تیسری عالمی جنگ کی عدم موجودگی میں نام نہاد امن اور جمہوریت کے نام پرسب سے زیادہ لوگوں کا قتل عام ، قحط ، سب سے بڑی ہجرتیں ، ملکوں اور خطے کی تباہی اور خون میں ڈبو دیا ہے
علم و ادب پر رجعت کی یلغار
اور ایسا لگتا ہے کہ اللہ کو مانے سے قتل کا لائسنس مل جاتا ہے اور مسلمان ہونے سے دوسروں کو کافر اور اقلیت کہنے کا حق مل جاتا ہے جو جہالت اور غیر انسانی سوچ کا اعکاس ہے
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی پچاس سالہ جدوجہد کے اسباق
طلبہ تنظیم سے بڑھ کر یہ نوجوانوں کی ایک سیاسی درسگاہ اور تجربہ گاہ رہی ہے۔ کسی عوامی جماعت کی سر پرستی کے بغیر ہی یہ تنظیم نصف صدی تک پھیلے ہوئے طویل عرصے پر محیط عروج و زوال کی ایک دلچسپ اور سبق آموز داستان اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے
پیش لفظ ۔ کس کا پاکستان
انیس سو سنتالیس میں جن آنکھوں نے آزادی ، امن اور خوشحالی کا خواب دیکھا تھا آج پتھرا چکی ہیں یا پھر خون کے آنسو رو ر رہی ہیں ۔ پاک سر زمین کے لیے جدوجہد کرنے والے آج اپنی جدوجہد سے شرمندہ ہیں
ٹرمپ کی جیت۔ معجزات کے دور کا آغاز
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایک طرف بڑا بدمعاش (ٹرمپ)اور دوسری طرف چھوٹی بدمعاش( ہلیری) تھی ۔ عوام ہر بار چھوٹے بدمعاش کو ووٹ دیکر دیکھ چکے تھے اس لیے انہوں نے اس بار روٹین ازم کے خلاف ووٹ دیا
پی ٹی آئی ۔ ریاستی اداروں کی بے اعتباری پر اعتبار
موجودہ نطام میں اور اسکی عدالتوں میں فیصلے انصاف کے مطابق نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی اور ہر فوجی آمریت اور عوام پر ہر بربریت کو عین قانون اور عین آئین قرار دیا
شام، عراق اور سامراجی منافقت
سفارتکاری کے دو مقاصد ہیں: ایک یہ کہ جنگ کے اصل محرکات اور عزائم کی اپنی عوام سے پردہ پوشی کی جائے اور دوسرا جنگ کی تمام ہولناکی اور جرائم کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جائے۔
یورپی اتحاد کو خطرہ http://www.classic.chingaree.com/products/1456239514_EU01.jpg
محنت کش عوام کی خوشحالی ہی یورپ کے اتحاد اور استحکام کی ضمانت ہے جو سرمایہ داری کے تحت اب ممکن نہیں ہے۔ یورپ کے اتحاد اور استحکام کو منڈی کے نظام سے خطرہ ہے مہاجرین سے نہیں
مزید آرٹیکل

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی پچاس سالہ جدوجہد کے اسباق

  جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی پچاس سالہ جدوجہد کے اسباق
Bookmark and Share یاسر ارشاد
چنگاری ڈاٹ کام :2016-11-23 14:23:49

تعارف:
نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن( جے کے این ایس ایف  ) پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں اور طالب علموں کے سب سے زیادہ ترقی پسند اور باغی رجحانات کے اجتماع واظہار کا پلیٹ فارم رہی ہے۔ ایک طلبہ تنظیم سے بڑھ کر یہ نوجوانوں کی ایک سیاسی درسگاہ اور تجربہ گاہ رہی ہے۔ کسی عوامی جماعت کی سر پرستی کے بغیر ہی یہ تنظیم نصف صدی تک پھیلے ہوئے طویل عرصے پر محیط عروج و زوال کی ایک دلچسپ اور سبق آموز داستان اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک غلام خطے کے نوجوان آزادی اور انقلاب کی تڑپ و تشنگی لئے پانچ دہائیوں تکجے کے این ایس ایف کے پلیٹ فارم اور جدوجہد سے اپنی امیدیں وابستہ کرتے رہے۔ ایک نسل کی اکثریت جب آزادی کی جدوجہد کے شرمندہ تعبیر ہونے سے مایوس ہوکر راستہ بدلنا شروع کرتی تو دوسری نسل کے نوجوان اس راہ پر چلنے کے لئے تیار ہوچکے ہوتے تھے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جے کے این ایس ایف کی پچاس سالہ زندگی کے زیادہ تر عرصے میں نظریاتی ابہام حاوی رہا پھر بھی اس تنظیم نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں اور طلبہ کی سب سے ریڈیکل پرتوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ ان پانچ دہائیوں میں عالمی سطح پر رونما ہونیوالے واقعات جے کے این ایس ایف کے عروج وزوال میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ ایک اہم عنصر کے طور پر اثر انداز ہوتے رہے۔

پچاس سال کے طویل سفر کا تنقیدی جائزہ جے کے این ایس ایف کے مستقبل کے حوالے سے ایک کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ جے کے این ایس ایف  سے وابستہ نوجوانوں کے لئے جہاں یہ سفر باعث فخر ہے وہیں اس سفر کے اسباق، ناکامیوں اور کامیابیوں کا درست ادراک حاصل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ محض جے کے این ایس ایف کے پچاس سال پورے ہونے پرفخر کرنا ہی کافی نہیں بلکہ پچاس سال کے سفر کے نتائج پر بے رحمانہ تنقید کے ذریعے درست سمتوں کا تعین زیادہ ضروری ہے۔ اس سفر کے دوران اپنائی جانیوالی غلط پالیسیوں کا جائزہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ درست پالیسیوں اور اقدامات کا۔

ایک درست سائنسی تجزیہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم جے کے این ایس ایف کی تاریخ کو اول تا آخر کامیابیوں سے بھر پور ایک دیو مالائی داستان میں بھی تبدیل نہ کریں۔ نہ ہی ا پنی موجودہ خواہشات اور ضروریات کے پیشِ نظر ماضی کو مسخ کر کے حال یعنی موجودہ صورتحال کو ثابت کرنے کے لئے ایک ثبوت یا دلیل میں تبدیل کریں۔ بلکہ پوری تاریخ کو اس کے معروضی حالات کے ساتھ تعلق اور اثرات کے حوالے سے جو جیسا ہوا اس کو اسی طرح سامنے لائیں اور ان وجوہات کی وضاحت کریں جن کا فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ ان سماجی و سیاسی قوانین کو جاننے کی کوشش کریں جن کے تابع ہمارے سماج کا ارتقائی عمل جاری و ساری ہے۔

جے کے این ایس ایف کی تاریخ کو درست طور پر تفصیل کے ساتھ مرتب کرنے میں ایک مسئلہ تو دستاویزی ثبوت کی عدم موجودگی ہے۔ اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ موجودہ کاوش جے کے این ایس ایف کی تاریخ ہے بلکہ اس کے برعکس یہ زیادہ سے زیادہ جے کے این ایس ایف کی تاریخ کے اہم ادوار کا تنقیدی جائزہ ہی ہوسکتا ہے خاص کر نظریاتی ارتقاء کے اہم مراحل کا۔ آج جے کے این ایس ایف بطور ایک تنظیم کے جس فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے وہاں اس سے وابستہ نوجوانوں کے لئے اس کے چھوٹے بڑے تمام کارناموں کی تفصیلات جاننے سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ ان کو اس تنظیم کے سیاسی اور نظریاتی ارتقاء کے مختلف مراحل اور اتار چڑھاؤ سے آگاہی ہو تاکہ وہ مستقبل کی جدوجہد میں زیادہ باشعور ہو کر اپنا کردار ادا کرسکیں۔

جے کے این ایس ایف کی پچاسویں سالگرہ پر مختلف مضامین اور کتابچے شائع کیے گئے ہیں جو اس حوالے سے خوش آئند ہے کہ مختلف پہلوؤں سے اس جدوجہد پر روشنی ڈالی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کے خدشات بھی موجود ہیں کہ مختلف افراد اپنی من مرضی سے واقعات کا ردوانتخاب کریں جس سے وہ اپنے موجود ہ موقف کو درست ثابت کرسکیں۔ اسی طرح کا ایک کارنامہ جے کے این ایس ایف کے اس وقت سب سے با شعور اور نظریاتی ہونے کے دعویدار دھڑے کی قیادت نے سرانجام دیا ہے۔ جنہوں نے اپنے شائع کردہ کتابچے میں جے کے این ایس ایف کے اندر ہونیوالی سب سے فیصلہ کن نظریاتی دھڑے بندی جیسے اہم واقعے کا ذکر تک نہیں کیا۔ ایک اور مضمون میں جے کے این ایس ایف کی تاریخ کا سطحی لیکن انتہائی دیانت دارانہ اور مختصرا حوال ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے۔ اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تاریخ کا مختصر اور سادہ تعارف ہے۔ لیکن اس تحریر کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے خود کو غیر جانبدار رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ جہاں تک موجودہ تحریر کا تعلق ہے ہم یہ برملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ بالکل بھی غیر جانبدار نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد ہی ایک واضح جانبداری کی بنیاد پر مرتب ہونیوالے نقطۂ نظر کو سامنے لانا ہے۔

ہم مارکسی بین الاقوامیت پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور انہیں نظریات کے نقطۂ نظر سے اس تاریخ کا تنقیدی جائزہ نوجوانوں کے سامنے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس موضوع پر شائع ہونیوالے مضامین اور کتابچوں کے مواد کا بھی ایک تجزیہ اس بحث کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔ اس وقت جے کے این ایس ایف مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور جے کے این ایس ایف کا مارکسزم کا دعویدار دھڑا ہی کارکنوں کی تربیت اور نظریاتی بحث اورمباحثے کے کام کو باقی دھڑوں کی نسبت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسی دھڑے نے ایک تفصیلی کتابچہ شائع کیا ہے جس میں کافی مواد ایسا ہے جس کی صحت مشکوک ہے۔ اس حوالے سے یہ تحریر ایک حد تک اس کتابچے میں اپنائے گئے موقف کا جواب بھی ہے۔

ان تمام پڑھنے والوں سے ہم پیشگی معذرت چاہتے ہیں جو اس مضمون سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس میں جے کے این ایس ایف کی پچاس سال پر محیط واقعات کی تفصیلی تاریخ ہو گی۔ دوسرا اس مضمون کے آخری حصے کا مواد بھی ایک ہی دھڑے کے گرد گھومتاہے جس کی وجہ اس دھڑے کی حال ہی میں آئی ایم ایف سے علیحدگی کا فیصلہ ہے۔ صرف یہی وجہ نہیں ہے بلکہ پڑھنے والے کو احساس ہو گا کہ جے کے این ایس ایف کے تمام نظریاتی ارتقاء کا حاصل اور ترقی کی معراج یہی تھی کہ مختلف مراحل سے گزر کر بالآخر ایک دھڑے نے ایک حقیقی مارکسی بین الاقوامی تنظیم آئی ایم ایف  کے ساتھ الحاق کا سنگ میل عبور کیا تھا۔ جبکہ باقی تمام دھڑوں میں سوشلزم کے نظریات کی بحث کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بنیاد پر ہمارے پیش نظر جو اہم نقطہ یعنیجے کے این ایس ایف  کا نظریاتی ارتقا ء کن مراحل سے گزرا ہے، اس حوالے سے یہ سب سے اہم واقعہ ہے اور اسی لئے اس کے مختلف پہلوؤں کا زیادہ تفصیلی احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

واقعات سے بھرپور عہد

سوہزار سالہ  میں عالمی سطح پر رونما ہونیوالے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے کئی ایسے تھے جنہیں سیاسی زلزلوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر برطانیہ میں یورپی یونین کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ہونیوالے برطانیہ ریفرنڈم  کے نتائج نے پورے براعظم یورپ کو سیاسی اور معاشی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ کے صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لئے چلائی جانیوالی مہم میں برنی سینڈرز نے سوشلزم کے نظریات پر بحث و مباحثے کو زبان زدِعام کر دیا ہے اس سے پہلے امریکہ میں سوشلزم کو کفر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے داخلی انتخابات میں شدید دھاندلی کے نتائج امریکی پالیسی سازوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں فتح کی صورت میں بھگتنے پڑے۔ اسے آج تک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اسپین میں سوشلسٹ پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ، جیرمی کاربن کی پارٹی انتخابات میں دوبارہ کامیابی، ہندوستان میں انسانی تاریخ کی عددی اعتبار سے سب سے بڑی عام ہڑتال اوروینزویلا میں انقلاب اور رد انقلاب کی تیز ہوتی ہوئی کشمکش سمیت دنیا بھر میں بے شمار ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو اس دھماکہ خیز عہد کا خاصہ ہیں۔

دوہزار آٹھ  کا عالمی معاشی زوال اس نئے عہد کے آغاز کا محض اعلان تھا۔ پہلے2009ء میں ایران میں ابھرنے والی تحریک اور خاص کر2011ء کے عرب انقلاب نے فیصلہ کن طور پر اس کرہ ارض کے سیاسی معمول کو ایک دھماکے کے ساتھ تبدیل کرکے رکھ دیا۔ 2008ء کا عالمی معاشی زوال اس سے پہلے اوراس کے بعد کے عہد کے درمیان تفریق کرنے والی حدِفاصل کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔ اسی طرح 2011ء کا عرب انقلاب، آکوپائی وال اسٹریٹ کی تحریک، یورپ کے محنت کشوں کی سرکش بغاوتیں، اور برطانیہ کا ریفرنڈم جیسے واقعات تیزی سے بدلتے ہوئے معروض اورعہد کے مختلف مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2008ء کے بحران سے سرمایہ داری ابھی تک نہیں نکل پائی تھی کہ اسے پھر ایک نئے بحران کا حقیقی خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے زوال اور خاتمے کا عمل ہر قسم کے تضادات، پیش رفتوں اور پسپائیوں سے لبریز ہوگا۔ یہ مارکسزم اور جدلیاتی مادیت کے فلسفے کی ابجد ہے کہ تبدیلیوں کا عہد درحقیقت تضادات کی شدید کشمکش کا عہد ہوتا ہے۔ وہ تمام تضادات جو پہلے سطح کے نیچے دبے ہوتے ہیں وہ ایسے ادوار میں دھماکہ خیز انداز میں سطح پر نمودار ہوتے ہیں اور ان کے اثرات سماج کو ایک نئی کیفیت میں تبدیل کر دیتے ہیں جو عمومی طور پر تبدیلی کے طویل عمل میں آگے کی جانب ایک بڑا قدم ہوتا ہے۔

عرب انقلاب نے مصر اور تیونس کے معاشروں میں تبدیلی کے عمل کے ابتدائی مراحل کی تکمیل کردی ہے۔ اس کے باوجود کہ ان ممالک کے محنت کشوں کے حالاتِ زندگی میں کوئی سدھار نہیں آیا۔ لیکن سرمایہ داری کے معذرت خواہوں کی طرح اس بات کو دلیل بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ کچھ بھی نہیں بدلا درحقیقت تبدیلی کے جدلیاتی عمل سے بے بہرہ ہونے کا ثبوت ہے۔ بعض خود کو مارکسی کہلوانے والوں کی تحریروں کا بھی یہی حال ہے۔ موصوف موجودہ عہد کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں'' موجودہ عہد نہ تو 1960ء کی دہائی کی طرح دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں اور انقلابات کا عہد ہے اور نہ ہی1980ء اور1990ء میں بالخصوص چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور سوویت یونین کے انہدام کے نتیجے میں جنم لینے والے ردِانقلابی عوامل اور وسیع پیمانے پر حاوی مایوسی اور رجعت کا دور ہے۔ البتہ اس میں جمود کے ادوار آتے رہتے ہیں۔ عالمی سطح پر انقلاب اور ردِ انقلاب ہمیں صحیح معنوں میں آج ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ‘‘(جے کے این ایس ایفجدوجہد کے پچاس سال صفحہ نمبر 5)

یہ چند سطور اپنے اندر سارے جہاں کے تضادات سمیٹے ہوئے ہیں۔ آئیے ان سطور کا بغور جائزہ لیتے ہیں کہ ان میں ہمیں عہد کے بارے میں کیا سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے'' موجودہ عہد نہ تو 1960ء کی دہائی کی طرح دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں اور انقلابات کا عہد ہے‘‘ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ1960ء کی دہائی میں جس قسم کے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوئے تھے، موجودہ عہد یعنی آنے والے سالوں میں ایسے کوئی واقعات رونما نہیں ہوں گے چونکہ مصنف موصوف کے بقول یہ1960ء کی دہائی کی طرح کا انقلابی عہد نہیں ہے۔ اس دنیا کی موجودہ کیفیت کا جائزہ لیا جائے تو کم از کم ہر وہ فرد جو فاترالعقل نہیں ہے وہ پورے وثوق سے اتنا ضرور کہہ سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ماضی کے کسی بھی عہد کی نسبت زیادہ بڑے واقعات رونما ہوں گے۔ موجودہ عہد کو1960ء کی دہائی سے ملتا جلتا عہد تسلیم نہ کرنا مصنف کی ذہنی حالت پر شکوک و شبہات میں اضافہ کرتا ہے یا دوسری ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ خاص ضرورت و مقاصد کے پیشِ نظر ایسا ارادتاً کیا جارہا ہے۔ لیکن قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ اس پر(اسرار) مغز داستان کا تو یہ نقطہ آغاز ہے۔ چلئے ہم اسی پیراگراف کے اگلے فقروں کا جائزہ لیں۔

اگلے فقرے میں مصنف اپنی ہی پھیلائی ہوئی مایوسی کی دھند کو تھوڑا کم کرنے کے لئے قاری کو یہ بتاتا ہے کہ اگرچہ یہ کوئی انقلابی تحریکوں کا عہد نہیں ہے لیکن یہ سوویت یونین کے انہدام اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی کے بعد کا رجعتی عہد بھی نہیں ہے۔ پڑھنے والا ابھی سکون کا سانس بھی نہیں لے پاتا کہ اس پر ایک عجیب وغریب وار کیا جا تا ہے اور اگلے ہی فقرے میں اچانک جمود کے ادوار آجاتے ہیں۔ اگر اس پیراگراف کو تسلسل میں پڑھا جائے تو اس کے تیسرے فقرے کا پہلے دو کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں بنتا نہ تو معنی و مفہوم کے حوالے سے، نہ زبان و بیان کے حوالے سے اور نہ ہی زماں و مکاں کے حوالے سے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی درباری مورخ کا تاریخ قلمبند کرتے ہوئے بادشاہ کی قصیدہ گوئی کی بجائے حقائق کی جانب جھکاؤ غیر ارادی طور پر کچھ زیادہ ہو گیاتھا جس کے اچانک احساس نے اسے چونکا دیا اور اس نے تحریر کو متوازن کرنے کے لئے غیر ضروری اور بیجا طور پر بادشاہ کی مدح سراہی کے لئے چند سطور تحریر کر دی ہیں۔ اسی طرح ہمارے مصنف موصوف بھی اچانک کسی بات سے چونک کر جمود کے ادوار عدم سے تخلیق کر کے لے آئے یا بقول غالبؔ آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں! اب اصل ماجرا کیا ہے وہ تو ان سطور کے مصنف ہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن اس سے اگلا فقرہ پڑھ کر قاری دنگ رہ جاتا ہے چونکہ مصنف کے تخیل کی پرواز ایک نئی اور مکمل طور پر غیر متوقع قلابازی لیتی ہے اور اسے عالمی سطح پر انقلاب اور رد انقلاب ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دینا شروع کر دیتے ہیں وہ بھی صحیح معنوں میں!

اتنی الٹی سیدھی قلابازیوں کے بعد ہم مصنف سے چند سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تو یہ انقلابات و ردانقلابات کا طلاطم خیز عہد نہیں ہے بلکہ معمول کے سست رفتار ارتقاء اور بتدریج تبدیلیوں کا عہد ہے تو اس میں جمود کے ادوار کہاں سے اور کیوں آتے رہتے ہیں؟ اور اگر اس عہد میں انقلابات اور ردِانقلابات ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ بھی صحیح معنوں میں ! تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ انقلابی اور ردِ انقلابی واقعات کے ابھار کا عہد نہیں ہے؟ کیا اس میں1960ء کی دہائی میں رونما ہونے والے واقعات سے زیادہ بڑے واقعات رونما نہیں ہورہے یا نہیں ہوں گے؟

اس کے بعد مصنف رقم طراز ہے کہ عالمی سطح پر انقلابی تحریکیں قیادت میسر نہ آنے کی وجہ سے پسپائی اور ردِانقلاب کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں تو کسی اور ملک یا خطے میں نئی تحریکوں کا ابھار نظر آتا ہے۔ ہم مصنف کے ساتھ سو فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ عالمی صورتحال کا ایک عمومی پہلو یہ بھی ہے۔ لیکن اس سے اگلے فقرے میں مصنف کچھ خود ساختہ انقلابیوں'' جو خواہشات کے مطابق دماغ میں تناظر تخلیق کرکے اسے معروض پر مسلط کرتے ہیں‘‘ کو یہ بتا رہے ہیں کہ یہ نہ تو یکسر انقلابی عہد ہے اور نہ ہی یکسر ردِانقلابی عہد! ہم مصنف کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کی تناظر خواہشات کے مطابق تخلیق نہیں کیا جاسکتا لیکن مصنف کا '' یکسر انقلابی‘‘ اور یکسر ردِانقلابی‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال پھر نئے شکوک و شبہات کے سلسلے کو جنم دے رہا ہے۔ لفظ یکسر کے معنی لغت میں خالص، مکمل طور پر، سر سے پاؤں تک، اول تاآخر یا کلی طور پر کے ہیں۔ اب یکسر انقلابی عہد یایکسر ردِ انقلابی عہد نہ ہونے پر مصنف کا پر زور اسرار از خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے کوئی ادوار ہوتے ہیں۔ یکسر انقلابی عہد کونسا ہو سکتا ہے؟ شاید کوئی ایسا عہد جس میں ہر طرف ہر جگہ ایک خالص و مکمل انقلاب کا غلبہ ہو جس کے بارے میں ہیگل کی زبان استعمال کی جائے تو سو فیصد خالص انقلاب ایسے ہی ہوتا ہے جیسے سو فیصد خالص کچھ بھی نہیں! یا شاید کچھ اور، ہمیں نہیں معلوم کیونکہ مصنف اس کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کرتا۔ ہم اگر مارکسزم کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اس بات پر مصنف ہمارے ساتھ متفق ہیں(ہم امید کرتے ہیں) کہ کلاسیکل شکل میں سوشلسٹ انقلاب روس میں1917ء میں بالشویک پارٹی کی قیادت میں برپا ہوا تھا۔ کیا ہم اسے یکسر انقلابی عہد کہہ سکتے ہیں؟ ایک رجعتی خونریز عالمی سامراجی جنگ کے بطن سے روس کے فروری انقلاب نے جنم لیا۔ فروری انقلاب کی اپنی محدودیت اور تھکاوٹ سے جولائی اور اگست میں عارضی طور پر رجعت کا پلڑا بھاری ہوا اور پھر انقلاب اور ردِ انقلاب کی دو انتہاؤں کی باہمی کشمکش اور جنگ کے نتیجے کے طور پر اکتوبر انقلاب وقوع پذیر ہوا۔ ایک جانب اگر بالشویک روسی سماج کی سب سے ریڈیکل اور انقلابی انتہا کی نمائندگی کر رہے تھے تو دوسری جانب کارنیلوف ردِ انقلاب اور رجعت کی انتہاؤں کا نمائندہ تھا۔ جتنی تیزی سے محنت کش طبقہ بالشویکوں کی جانب بڑھ رہا تھا اتنی ہی تیزی کیساتھ پرانے سماج کی نمائندہ تمام رجعتی قوتیں کارنیلوف کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے گرد مجتمع ہو رہی تھیں۔ اگر1917ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب فتح مند نہ ہو سکتا (کسی بھی وجہ سے) تو کارنیلوف کی خونی اوروحشیانہ آمریت لمبے عرصے تک ایک ناکام انقلاب کے جرم کی سزا کے طور پر روس کے سماج کو تاراج کرتی رہتی۔ اسی طرح سے دنیا کے ہر انقلاب کی تاریخ انقلابی اور ردِ انقلابی طاقتوں کی باہمی کشمکش، جدوجہد اور ایک مکمل جنگ کی تاریخ ہوتی ہے جس کی وضاحت اس قسم کی میکانکی تعریفوں کے ذریعے ممکن نہیں ہے کہ ہم معروض اور عہد کو یکسر انقلابی اور یکسر ردِ انقلابی عہدوں میں تقسیم کردیں۔

جدلیاتی مادیت کے چند بنیادی اصولوں میں سے ایک تضادات کے باہمی انضمام کا اصول ہے۔ مارکسزم کی سائنس مادے کی تمام حرکت و تغیر کو انہیں متضاد عناصر کی باہمی کشمکش اور اس کے ممکنہ نتائج کی وضاحت کی بنیاد پر قابل تفہیم اور ادراک بناتی ہے۔ اس لئے جدلیاتی طرزِ استدلال میںیکسر انقلابی او ر یکسر ر دِانقلابی جیسے الفاظ کا استعمال ممکن ہی نہیں۔ جدلیات کے مطابق مکمل یا خالص یا یکسر انقلابی عہد ایسے ہی ہے جیسے مکمل اور خالص کچھ بھی نہیں ہے۔ تضادات سے عاری مظاہر منطقی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس کے مطابق کوئی چیز ایک وقت میں ایک ہو سکتی ہے یا اس کے الٹ یعنی زندگی اور موت باہم یکجا بیک وقت ایک ہی جگہ پر یا ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کے طور پرنہیں ہوسکتے۔

رسمی منطق کے لئے عہد یکسر انقلابی بھی ہو سکتا ہے اور کسی دوسرے وقت میں یکسر ردِ انقلابی بھی ہو سکتا ہے اس قسم کی اصطلاحات کا استعمال منطقی سوچ کی محدودیت اور دقیا نوسیت کی عکاسی ہے۔

اب ہمارے صحیح معنوں میں یکسر انقلابی مصنف اپنے تخیل میں اتنی بے جوڑ قلا بازیاں لگاتے ہیں کہ ضبطِ تحریر میں لانے کے بعد ان کا ہر فقرہ دوسرے فقرے کو رد کرتا ہے۔ اسی قسم کے تضادات سے بھر پور کئی صفحات پر مشتمل ایک تحریر ہے جسے پڑھ کر غالب کا یہ مصرعہ ذہن میں آجاتا ہے۔۔۔

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

اس تحریر میں موجود اسی قسم کے تمام تضادات کا تفصیلی جائزہ لینا بے مقصد وقت کا ضیاع ہے جس سے اجتناب کرتے ہوئے اصل موضوع کی جانب لوٹنا ہی بہتر ہو گا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انتہائی مشکل و پیچیدہ معروضی حالات میں بھی مارکسی سائنس کے بنیادی اصولوں کے درست اطلاق سے مارکسی استادوں نے عہد کے کردار کی وضاحت کو ممکن بنایاہے۔ اس بنیاد پر کسی بھی عہد کے تضادات و پیچیدگی کی تفہیم ہی مارکسزم کا فریضہ ہے نہ کہ اس عہد کے پْر از تضاد‘ و پیچیدہ ہونے کا ورد کرتے رہنا۔ اسی طرح اگر کسی بھی عہد کا عمومی کردار کسی بھی دیے گئے وقت میں متضاد کیفیات کا حامل ہے تو صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ ہم متضاد کیفیات کے حامل عہد میں زندہ ہیں۔ یہ متضاد کیفیات عمومی طور پر کسی بھی عہد کے ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں تبدیلی کے عبوری مراحل کے دوران ہو سکتی ہیں لیکن عبوری مراحل پر مبنی متضاد کیفیات کے تغیر کی بھی کوئی نہ کوئی سمت ہوتی ہے جس کا تعین کرنا تناظر تخلیق کرنے کے کلیدی مقاصد میں سے ایک ہے۔ اگر ہم اس کرہ ارض کی موجودہ سماجی و معاشی کیفیات کا جائزہ لیں تو ہم با آسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم2008ء خاص کر2011ء کے عرب انقلاب کے بعد عالمی سطح پر دیو ہیکل انقلابی واقعات کے ابھار کے عہد میں داخل ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر انقلابی قوتوں اور قیادت کی کمزوری کے باعث یہ واقعات سرمایہ داری کے خاتمے پر منتج نہیں ہو رہے جس کے باعث عارضی پسپائیوں، مایوسی اور ٹوٹ پھوٹ کے ادوار بھی آئیں گے لیکن عمومی طور پر انقلابی واقعات کی جانب رجحان زیادہ مضبوط رہے گا۔

اب اگر یہ عہد متضاد کیفیات کا حامل عبوری مرحلہ بھی ہے تو اس کی سمت انقلابات کے طوفانی ابھار کی جانب ہے۔ اس ارتقاء کا سفر سرمایہ داری نظام کے ہر ملک میں دھماکے کے ساتھ ٹوٹنے کی جانب ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تبدیلی کا یہ عمل کسی ایک خطے، ملک یا براعظم تک محدود نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشی و تجارتی عالمگیریت نے پوری دنیا کو ایک کل میں تبدیل کر دیا ہے اس لئے اس کل میں جاری تبدیلی کا عمل جلد یا بدیر اپنے ہر جز کو متاثر کرے گا۔ بلکہ جو ملک اور خطے جتنی تاخیر سے تبدیلی کے اس عمل کی لپیٹ میں آئیں گے وہاں یہ عمل اتنا ہی شدید ہو گا۔ اس حوالے سے اگر کسی ملک یا خطے میں بڑے پیمانے پر اس عمل کا اظہار نہیں بھی ہو رہا پھر بھی مقداری تبدیلیوں کا عمل تیزی سے اس نقطے کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں یہ ایک دھماکے کے ساتھ اپنا اظہار کرے گا۔ لیکن تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بہت کفایت شعار ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہمیں واضح طور پر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اگر یورپ کی طرز کی بڑی انقلابی تحریکیں نہیں بھی ابھر رہیں پھر بھی خاموشی سے لیکن نہایت نفاست کیساتھ محنت کش طبقے کی تحریک کے ابھار میں حائل ٹریڈ یونین قیادت سے لیکر نام نہاد سیاسی روایت کے متعفن بوجھ تک اور نسلی و لسانی تعصب سے لے کر بنیاد پرستی کی وحشت جیسی رکاوٹوں کے خاتمے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ یورپ میں محنت کش طبقے کی تحریک کی ابتدائی لہروں نے سوشل ڈیموکریسی کی غلاظت کے خاتمے کا فریضہ سر انجام دیا ہے تو پاکستان میں یہی کام تحریک کی تاخیرکے دورانیے میں ہوا بھی ہے اور مزید اپنی تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

تناظر تخلیق کرتے وقت کل یا اکائی میں جاری عوامل کی عمومی سمتوں اور حرکت کو مختلف اجزاء کی اپنی منفرد خصوصیات کیساتھ باہمی جدلیاتی تعلق کے حوالے سے پرکھنا ضروری ہوتا ہے۔ جہاں یہ کہنا ممکن نہیں کہ جو کچھ آج برطانیہ میں ہورہا ہے کل اسی انداز سے اس خطے میں بھی ہوگا وہاں یہ کہنا بھی ممکن نہیں کہ اس قسم کے واقعات کا یہاں ہونا مکمل طور پر خارج از امکان ہے۔ برطانیہ یا کسی بھی دوسرے ملک کے واقعات سرمایہ داری کے نامیاتی زوال کا نتیجہ ہیں اس لئے پورے وثوق کیساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام خطوں میں آنے والے مہینوں اور سالوں میں دھماکہ خیز انقلابی واقعات رونما ہوں گے۔ یہ ایسا یکتائے زمانہ عہد ہے جس میں بطور مارکسی انقلابی کے زندہ ہونا ایسا ہی ہے جیسے کوئی فرد کئی جنموں کی زندگی ایک جیون میں جی لے۔ ایسا صرف اس لئے ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک دنیا ٹوٹ کر بکھر رہی ہے۔ اس نظام کے ہر ایک تانے بانے کا تناؤ اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے جہاں سے ان کے ٹوٹ کر بکھرنے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ جیسا کہ ٹیڈ گرانٹ نے دہائیاں پہلے شاید اسی عہد کی آمد کے حوالے سے لکھا تھا کہ'' آنے والی دہائیوں میں ہم سرمایہ داری کے انہدام اور ٹوٹ کر بکھرنے کے ساتھ کئی ایک انقلابات کا ابھار دیکھیں گے۔ دو عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے کا طوفانی عہد بھی اس آنے والے طلاطم خیز عہد کے مقابلے میں نسبتاً پر امن دکھائی دے گا۔ اسی اتھل پتھل اور طوفانوں کے اندر عالمی انقلاب کا حقیقی اوزار تخلیق ہو گا۔ 1917-23 ء تک کے کمنٹرن کے عظیم دن لوٹ آئیں گے۔ عالمی پیمانے پر مارکسزم کے نظریات کی حمایت میں اضافہ، ماضی کے وسیع تجربات اوربالشوازم کی روایات کی بنیاد اورمحنت کش طبقے کی شکستوں کے اسباق ایک بار پھر استحصال کا شکار محکوموں کی سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے اور عالمی سوشلسٹ جمہوریہ کے قیام کی جانب رہنمائی کریں گے‘‘۔ (ٹیڈ گرانٹ، ان ٹوٹ دھارا، جون 1943ء)

عروج و زوال کے پچاس سال

اسی سال ستمبر میں این ایس ایف  کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی جواین ایس ایف  سے وابستہ نوجوانوں کیلئے ایک حوالے سے قابلِ فخر بات تھی۔ یہ نوجوان ایک ایسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں جس کی جدوجہدپچاس سال کی کامیابیوں اور ناکامیوں، صحیح و غلط اقدامات سمیت بے شمار نظریاتی، سیاسی، حکمتِ عملی و طریقہ کار کی بحث و تکرار اور اختلافات و اتفاقات کے وسیع تجربات و اسباق پر محیط ہے۔ این ایس ایف  کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کی کئی نسلوں نے اپنے اپنے وقت اور حالات کے مطابق آزادی و سماجی مسائل کے حل کی جدوجہد کے نت نئے تجربات کیے۔ اس خطے و دنیا بھر میں ہونے والی آزادی کی جدوجہدوں اور انقلابات کے اثرات قبول کرتے ہوئے ان سے یکجہتی کے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔ نظریاتی ابہام کو ختم کرنے کیلئے مارکسزم اور سوشلزم کے لئے جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کیساتھ سیاسی و نظریاتی رشتے بنتے اور ٹوٹتے رہے۔ تحریکِ آزادئ کشمیر کے مختلف مراحل پر اس جدوجہد میں شریک دیگر تنظیموں اور پارٹیوں کیساتھ سیاسی کشمکش کے ذریعے اپنے موقف کی درستگی کو بھی ثابت کیا اور پھر اس سارے عمل میں ہونیوالی غلطیوں پر تنقید کے ذریعے درست سمتوں کا تعین کرنے کی کوشش بھی این ایس ایف  کی روایت رہی ہے۔ اس حوالے سے یہ ضروری ہے کہ این ایس ایف  کی پچاس سالہ جدوجہد کے تمام اتار چڑھاؤ کا سائنسی جائزہ لے کر مستقبل کی جدوجہد کا درست راستہ متعین کیا جائے۔ پچاس سال تک این ایس ایف  کے وجود کا قائم رہنا بڑی بات ہے لیکن سب کچھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ این ایس ایف  ہمیشہ قائم و دائم رہے گی اور اگر رہتی بھی ہے تو اس کے جنم کا مقصد کیا تھا ؟ اور کس حد تک اس مقصد کے حصول کا سفر طے ہو پایا ؟ جیسے بے شمارسوالوں کے جواب آج کی نوجوان نسل کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

این ایس ایف  کے قیام کا پس منظر

دوسری عالمی جنگ کے بعد نوآبادیاتی ممالک کے کروڑوں محنت کش اس سامراجی غلامی کے خلاف نسلِ انسانی کی تاریخ کی سب سے بڑی انقلابی بغاوت میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اسی انقلابی سرکشی کے نتیجے میں براہ راست سامراجی تسلط کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ممکن ہوا اور1950-60ء کی دہائیوں میں بے شمار سابقہ نوآبادیاتی ممالک نے سامراجی طوق سے نجات حاصل کی۔ اسی طرح کی ایک چنگاری1946ء میں رائل انڈین نیوی کے سپاہیوں کی بغاوت نے بھڑکائی تھی جو برطانوی سامراج کے خلاف پورے ہندوستان کی ایک انقلابی سرکشی میں بدل گئی۔ سٹالنسٹ اپنے غلط اور فرسودہ نظریات کی بدولت اس سر کشی کو قیادت فراہم نہ کر سکے اوراس انقلابی سرکشی سے خوفزدہ ہوکر نہ صرف برطانوی سامراج نے جلد از جلد ہندوستان کوآزادی دینے کا فیصلہ کیا بلکہ کانگریس اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک سازش کے ذریعے مذہبی تعصب اور نفرت کا زہر پھیلا کر ہندوستان کو تقسیم بھی کر دیا۔ تقسیم کے اس ناسور کو زندہ رکھنے کیلئے کشمیر کے خطے کو بھی ان دونوں نومولود ریاستوں کے مابین ایک خونریز تنازعے کے طور پر چھوڑ دیا۔

مذاکرات او ر ساز باز کے ذریعے بھیک میں ملنے والی اس نام نہاد آزادی کے بعد اس خطے کی پچھڑی ہوئی سرمایہ داری میں وہ صلاحیت ہی نہیں تھی کہ وہ یہاں جدید صنعتی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے اس سماج کو ترقی دے سکتی۔ دوسری جانب1949ء کے چینی انقلاب سے شروع ہونیوالا انقلابات کا سلسلہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ50ء کی دہائی میں بھی جاری رہا جبکہ60ء کی دہائی کے آخری چند سالوں میں اس نے کرہ ارض کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 1956ء میں مصر کے انقلاب کی پیش قدمی، 1959ء میں کیوبا میں گوریلا جنگ کی کامیابی، 1962ء میں الجزائر کی جنگِ آزادی کی فتح اور 1964ء میں فلسطین کی تحریکِ آزادی کے ابھار جیسے بے شمار دیوہیکل واقعات کے اثرات کے زیرِ اثر کشمیر کے نوجوانوں نے 1966ء میں میر پور کے مقام پر این ایس ایف  کی بنیاد رکھی تھی۔ جن نوجوانوں نے اس کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ان کی اکثریت پاکستان کے مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں میں اس وقت کی سب سے بڑی بائیں بازو(سٹالنسٹ) کی طلبہ تنظیم این ایس ایف  پاکستان میں کام کر کے اس کے نظریات اور طریقۂ کار سے واقفیت حاصل کر چکے تھے۔ کشمیر کے ان نوجوانوں نے تقریباً اسی طرز پرجے کے این ایس ایف  کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس عہد کے حوالے سے تحریری مواد کے مکمل فقدان کے باعث ٹھیک ٹھیک ان نظریات اور پروگرام کا اندازہ لگانا مشکل ہے جن کوجے کے این ایس ایفکے تاسیسی کنونشن میں اپنایا گیاتھا۔ لیکن جس سٹالنسٹ پسِ منظر اور تسلسل کی یہ کڑی تھی اور جیسا کہ بعد میں شائع ہونیوالے مواد سے واضح ہوتا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اپنے آغاز سے ہیجے کے این ایس ایف بائیں بازو کا رحجان رکھنے والی ایک ترقی پسند طلبہ تنظیم تھی۔

جے کے این ایس ایف کے ابتدائی دور کے حوالے سے تحریری مواد ایک ناول کی صورت میں ہی دستیاب ہے جس کے مصنف کا یہ کہنا ہے کہ اس نے جن واقعات کا تفصیلی ذکر ایک تاریخی ثبوت کے طورپر ضبطِ تحریر میں لایا ہے اس کا کوئی مستند دستاویزی ذریعہ بطورِ ثبوت موجود نہیں ہے بلکہجے کے این ایس ایف کے کچھ سابقہ قائدین کے انٹرویوز سے یہ مواد اخذ کیا گیا ہے۔ ہمارے لئے سب سے اہم نقطہ ان نظریات کا ہے جن پر اس تنظیم کی بنیادیں استوار کی گئی تھیں اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی دو بڑے کیمپوں میں تقسیم یعنی ایک جانب سٹالنسٹ روس اور کسی حد تک چین کی قیادت میں سٹالنسٹ بلاک تھاجبکہ دوسری جانب امریکہ کی قیادت میں سرمایہ داری نظام کے حامی تھے۔ انیس سو پنتالیس  سے شروع ہوکر1989-90ء میں سوویت روس کے انہدام تک کے اس عرصے کو سرد جنگ کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے جس میں دنیا بھر کی بائیں بازو کی تحریک پر سٹالنزم یا اسی کی اس سے بھی بھونڈی نقالی 'ماؤازم‘ کے نظریات حاوی تھے۔ پاکستان میں سٹالنسٹ پارٹی کبھی بھی بڑی قوت نہیں بن سکی لیکن اس سے بڑا المیہ یہ تھا کہ 1968ء میں جب ایوب آمریت کے خلاف پاکستان کے طلبہ، محنت کش اور کسان ایک انقلابی بغاوت میں اٹھ کھڑے ہوئے تو سٹالنسٹوں کا کوئی بھی دھڑا، آیا وہ ماسکو نواز تھے یا بیجنگ نواز اس میں مداخلت کرنا یا اس کی قیادت کی جدوجہد کرنا تو درکنار اس کو ایک حقیقی انقلابی بغاوت و سرکشی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ بائیں بازو کے اسی نظریاتی بانجھ پن اور کمزوریوں کی جھلک ہمیںجے کے این ایس ایف کی تاریخ کے بیشتر حصے پر بھی حاوی نظر آتی ہے۔

جے کے این ایس ایف کے پانچویں مرکزی کنونشن(منعقدہ 5، 4اپریل1978ء بمقام مظفرآباد) میں پیش کی جانیوالی کارکردگی رپورٹ اور اسی کنونشن میں اتفاقِ رائے سے منظور کیا جانیوالا منشور و آئین ہماری دسترس میں آنے والی سب سے پرانی دستاویزات ہیں جن سے ہم اس وقت کے نظریاتی اور سیاسی موقف کا ٹھیک ٹھیک جائزہ پیش کر سکتے ہیں۔ کارکردگی رپورٹ میں این ایس ایف  کے جنم کے مقاصد اور ابتدائی دور کے بارے میں لکھا گیا ہے، '' جس وقت این ایس ایف  کی بنیاد رکھی گئی تھی طلبہ کی کوئی اور تنظیم موجود نہیں تھی۔۔۔ اس مرحلہ پر اولین فریضہ یہ سمجھا گیا کہ وسیع تر بنیادوں پر تمام طلبہ کو اکٹھا کیا جائے۔ تاکہ ان کی کوئی تنظیمی شکل ابھر کر سامنے آئے اور آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کیے جائیں۔ لیکن تنظیم کے قیام اور فعال شکل بننے کے بعد این ایس ایف  کے لئے نظریاتی تشخص پیدا کرنے کا مسئلہ اہمیت اختیار کر گیا‘‘۔ (کارکردگی رپورٹ صفحہ 4-5 پیش کردہ مرکزی کنونشن 1978ء )

بہت واضح الفاظ میں نہ سہی مگر ان الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ ابتداء میں طلبہ حقوق کے لئے وسیع تر طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لئے این ایس ایف  کا قیام عمل میں لایا گیا اور قیام کے بعد عملی جدوجہد کے تجربات اور سیاسی و انقلابی واقعات کے زیر اثر اس کے نظریاتی تشخص کو متعین کیا گیا۔ اس حوالے سے عام رائے یہ پائی جاتی ہے کہ طلبہ حقوق کی جدوجہد سے آغاز کرتے ہوئے غالباً 1968ء میں مسئلہ کشمیر کا رائے شماری کے انعقاد کے ذریعے حل اور پھر انیس سو بہتر میں سوشلزم کو اپنایا گیا جس کے بعد رائے شماری کی بجائے کشمیر کی آزادی و خود مختاری اور غیر طبقاتی سماج کے قیام اور عالمی امن کے حصول کو اپنی جدوجہد کا محور قرار دیا گیا۔ این ایس ایف کی نظریاتی بنیادوں کے حوالے سے اسی کارکردگی رپورٹ میں لکھا ہے، ''آج این ایس ایف کشمیری طلبہ کی ایک ترقی پسند تنظیم ہے اور آزادی، قوم پرستی اور سوشلزم اس کی نظریاتی بنیادیں ہیں۔ (کارکردگی رپورٹ صفحہ نمبر6)
اسی طرح1978ء کے ہی مرکزی کنونشن میں منظور ہونے والے منشور و آئین میں آزادی، قوم پرستی اور سوشلزم کو نظریاتی بنیادیں قرار دیا گیا ہے۔ پروگرام و مقاصد میں کشمیر کی قومی آزادی کو اولین فریضہ قرار دیا گیا ہے جبکہ اس کے حصول کا ذریعہ عوامی مسلح جدوجہد کے طریقۂ کار کو قرار دیا گیا ہے۔ چیدہ چیدہ مقاصد کی فہرست کی ترتیب میں بھی پہلا قومی آزادی اور دوسرا عوامی مسلح جدوجہد ہے۔ '' این ایس ایف سمجھتی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی محکوم قوم آزادی کو بھیک کے طور پر حاصل نہیں کر سکتی بلکہ اسے طاقت کے زور سے اور مسلح جدوجہد کا طریقہ اختیار کر کے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ این ایس ایف دنیا کی انقلابی تحریکوں کے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایک محکوم قوم اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر خود انحصاری کے ذریعے جدوجہد کرتے ہوئے آزادی کا نصب العین حاصل کر سکتی ہے۔ ‘‘ (منشور و آئین صفحہ4 پاس کردہ مرکزی کنونشن1978ء )

درحقیقت1978ء کے کنونشن میں پیش کی جانیوالی کارکردگی رپورٹ اور منشور و آئین1970ء کی دہائی میں جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں وقوع پذیر ہونے والے انقلابی واقعات کی گونج اور بازگشت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ ویت نام، کمبوڈیا، لاؤس، موزمبیق اور انگولا میں مسلح جدوجہد کی فتوحا ت نے اس عہد کے نوجوانوں کو جس طرح متاثر کیا یہ تحریریں اس کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ نظریاتی اور سیاسی طور پر ایک کلیدی ابہام اور کمزوری تنظیم کی بنیادوں میں اپنے جنم سے موجود تھی۔ کسی بھی انقلابی تنظیم میں خامیوں اور کمزوریوں کا ہونا فطری اور ناگزیر ہوتا ہے لیکن اہم نقطہ یہ ہوتا ہے کہ تنظیم کا بالعموم اور خاص کر قیادت کا ان خامیوں اور کمزوریوں کی جانب رویہ کیا ہے؟ اس حوالے سے اس وقت کی قیادت کا رویہ مندرجہ ذیل اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے۔

کارکردگی رپورٹ کے مختصر سے پیش لفظ میں تنظیم کی12سالہ زندگی کے بارے میں یہ الفاظ تحریر کیے گئے ہیں۔ ''آج جے کے این ایس ایف  اپنی زندگی کے بارہویں سال سے گزر رہی ہے۔ ان بارہ سالوں میں جہاں آزاد کشمیر کی سیاست میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، کئی حکومتیں بنی اور بگڑی ہیں وہاں جے کے این ایس ایف کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔ ہم نے انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کیا ہے۔ ہمیں ناکامیاں بھی ہوئی ہیں اور کامیابیاں بھی۔ بعض موقعوں پر ہم صورتِ حال کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے اور شاید ہم سے غلط فیصلے بھی ہوئے ہیں۔ لیکن عمومی طور پرجے کے این ایس ایف نے کشمیر کی نئی نسل کے شعور کو آگے بڑھانے، ان میں قومی جذبہ پیدا کرنے اور اپنے قومی تشخص کے حوالے سے مسائل پر بھرپور جدوجہد کرنے کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔ ‘‘

اس پیش لفظ کا اختتام ان الفاظ پر کیا گیا ہے'' چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس موقع پر ہم مختصراً اپنی تنظیم کی بارہ سالہ تاریخ کا احاطہ کریں اور ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مستقبل میں ایک بہتر طریقہ کار اپنانے کی کوشش کریں‘‘۔

یہ چند سطور اس وقت کی قیادت کے تنظیم کی تعمیر کے حوالے سے درست رویے، سائنسی اپروچ اور انقلابی جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ تنظیم کی تعمیر کوغلطیوں اور کو تاہیوں سے پاک قرار دے کر تاریخ کو ایک غیر متغیر دیو مالائی داستان یا آسمانی صحیفے میں بدلنے کی بجائے اس وقت کی قیادت نے تنظیم کی تاریخ کو ایک تغیر پذیر عمل کے طور پر لیا جس میں نہ صرف کامیابیوں کیساتھ ناکامیاں اور درست فیصلوں کے ساتھ غلط فیصلوں کے ذریعے تنظیم آگے بڑھتی ہے بلکہ اس سے بھی اہم نقطہ پیش لفظ کے اختتامی سطور میں واضح کیا گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مستقبل میں درست طریقہ کاراپنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

لیکن اس مثبت رویے کے باوجود کسی ٹھوس سائنسی تجزئیے کے برعکس ہمیں واقعات کی پیروی نظر آتی ہے اور ا یسا صرف عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کے حوالے سے نہیں تھا بلکہ کشمیر کے اندر بھی مختلف سیاسی رجحانات کا اتار چڑھاؤ این ایس ایف  کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتا رہا ہے۔

طلبہ حقوق کی جدوجہد میں ہر اول کردار این ایس ایف نے ہی ادا کیا یہاں تک کہ کشمیر کی دیگر قوم پرست تنظیموں یا پارٹیوں سے اس کا موازنہ کیا جائے تو ان کے مقابلے میں این ایس ایف کے کارکن اور قائدین سیاسی طور پر زیادہ با شعور، ترقی پسند نظریات اور جدید سائنسی بحثوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی بے پناہ گنجائش رکھتے تھے۔ اس کے باوجود جو نظریاتی خامیاں این ایس ایف پر حاوی رہی ہیں وہ درحقیقت اس عہد میں سٹالنزم کے غلبے کی وجہ سے تھیں۔ اسی لئے ہمیں ایک شاندار جدوجہد کیساتھ شخصی اور گروہی بنیادوں پر غیر ضروری ٹوٹ پھوٹ اور کچھ عرصے بعد پھر سے اتحاد اور پھر کچھ عرصے بعد نئی ٹوٹ پھوٹ کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔

آغاز سے ہی آزادی کشمیر کے حوالے سے جدوجہد کرنے والے دیگر رجحانات کے اثرات این ایس ایف پر مرتب ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جس عہد میں این ایس ایف کی بنیاد رکھی گئی تھی اس وقت کشمیر کی آزادی کے حوالے سے بھی رائے شماری کے انعقاد کے لئے ایک محاذ تشکیل دے کر آزادی پسندوں نے جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا۔ محاذِ رائے شماری بعد کی تمام قوم پرست جماعتوں کا ابتدائی پلیٹ فارم ہے۔ 70ء کی دہائی کے اختتام تک محاذِ رائے شماری کے سیاسی اثرات کے تابع این ایس ایف کے اندر ایک مضبوط دھڑا تشکیل پا چکا تھا۔ محاذِ رائے شماری کے حامی دھڑے کے مخالف گروپ نے اس کو بنیاد بنا کر اس دھڑے کے خلاف یہ موقف اپناتے ہوئے ایک گروہی لڑائی کا آغاز کیا کہ ہمیں این ایس ایف کے آزادانہ تشخص کا دفاع کرنا چاہیے۔ یوں قیام کے چند سالوں بعد ہی نظریاتی کمزوریوں کے باعث بیرونی نظریات کے زیرِ اثر پہلی باقاعدہ پھوٹ کے نتیجے میں این ایس ایف دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ کسی انقلابی تنظیم کے ساتھ وابستگی اور اس کی نظریاتی و سیاسی رہنمائی کی عدم موجودگی میں یہ خلاء تحریکِ آزادی کشمیر میں یکے بعد دیگرے ابھرنے والی پارٹیوں کے نظریاتی اور سیاسی اثرورسوخ میں اضافے کی صورت میں پُر ہوتا رہا ہے۔ پھر تحریکِ آزادی کے اتار چڑھاؤ بھی اس کی عددی بڑھوتری اور گراوٹ پر اثرا انداز ہوتے رہے۔

اعلانیہ دھڑے بندی (جو غالباً1981ء میں ہوئی) سے پہلے مختلف آراء کی باہمی کشمکش کی جھلک ہمیں1978ء کے کنونشن کی کارکردگی رپورٹ کے ان الفاظ میں دکھائی دیتی ہے'' اس دور میں یہ احساس رفتہ رفتہ مستحکم ہوا کہ آزاد کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتیں نظریات سے قطع نظر محض اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے موقع پرستی کی سیاست پر عمل پیرا ہیں۔ لہذا این ایس ایف کو کسی بھی سیاسی جماعت کا دم چھلہ بننے کی بجائے اپنی آزادانہ حیثیت کو قائم کرنا چاہیے‘‘۔ یہ الفاظ تنظیم میں جاری کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں جو بڑھتے بڑھتے ایک کھلی پھوٹ کی صورت میں سامنے آئے۔ این ایس ایف کا چھٹا کنونشن جو 1981ء میں منعقد کیا جانا تھا کشمیر میں1977ء میں مسلط کی جانیوالی آمریت کے جبر اور گرفتاریوں کے باعث اپنے وقت پر منعقد نہیں کیا جاسکا۔ 1981ء میں ہی کچھ تاخیر کے ساتھ دو الگ الگ کنونشن منعقد کیے گئے۔ ایک دھڑے کی منتخب قیادت کو محاذِ رائے شماری کی حمایت یافتہ قرار دیا گیا جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت این ایس ایف کے آزاد تشخص کی نمائندہ قرار پائی۔ اس دھڑے بندی کے حوالے سے بھی تحریری مواد کے فقدان کے باعث سینہ بہ سینہ چلی آنے والی یادداشتیں ہی معلومات کاواحد ذریعہ ہیں۔ اس لئے صرف ایک بات کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ اس دھڑے بندی کی ایک وجہ ایک دھڑے کا محاذِ رائے شماری کی جانب جھکاؤ رکھنا بھی تھا۔ اس بات کا ثبوت اُس میٹنگ کے منٹس ہیں جس میں اس دھڑے بندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دھڑے بندی کو ختم کرنے کے لئے13اور14 ستمبر1983ء کو دونوں دھڑوں کے عہدیداران کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ایک چار رکنی اسٹیرنگ کمیٹی کو اتفاقِ رائے سے چنا گیا اور دونوں دھڑوں نے اپنے تمام سیاسی اور تنظیمی اختیارات اس کمیٹی کو تفویض کردئیے اور تمام عہدیداران اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو گئے۔ اس کمیٹی کی میٹنگ میں جو امور اتفاقِ رائے سے طے پائے ان میں پہلا یہ تھا۔ '' این ایس ایف اپنے تنظیمی کردار کے حوالے سے اپنے ماضی کا آزاد اور خود مختار کردار اور غیر وابستہ تشخص برقرار رکھے گی۔ کسی بھی سیاسی جماعت، گروہ، شخصیت یا ادارے سے کسی بھی طرح کا کوئی اثر قبول نہیں کرے گی اور ماضی میں سرزد ہونیوالی کوتاہیوں کا کسی بھی طرح سے اعادہ نہیں ہونے دیا جائیگا اورساتویں مرکزی کنونشن میں جنرل کونسل سے اس کی توثیق کروائی جائیگی‘‘۔ (فیصلہ اسٹیرنگ کمیٹی صفحہ نمبر 1)

اس کے علاوہ اس میٹنگ میں این ایس ایف کا آئین ازسرِ نو مرتب کرنے اور اسی سال9، 10نومبر کو ساتواں مرکزی کنونشن کوٹلی میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کنونشن میں ایک طرف ایک دھڑے بندی ختم کی گئی تو دوسری طرف نئی پھوٹ کے نتیجے میں پھر دو دھڑے وجود میں آگئے۔ 1983ء کی دھڑے بندی کی داستان اس سے پہلے والی دھڑے بندی کی داستان سے ہی ملتی جلتی ہے۔ محاذِ رائے شماری نے 1977ء میں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو یورپ سمیت بیرونی دنیا میں اجاگر کرنے کے لئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹکے نام سے برطانیہ میں ایک سفارتی ونگ کی بنیاد رکھی لیکن اس کو اعلانیہ طور پر اپنا ونگ ظاہر نہیں کیا۔ اس سفارتی ونگ کے سربراہان اور محاذِ رائے شماری کی قیادت کے مابین تعلقات کی کشیدگی اور اختلافات کے باعث جے کے این ایس ایف  ایک الگ تنظیم کے طور پر کام کرنے لگی۔ 1983ء کے ساتویں کنونشن میں ہونے والی دھڑے بندی میں ایک الگ دھڑاجے کے ایل ایف کی جانب جھکاؤ رکھنے والا قرار پایا جبکہ دوسرا دھڑا پھر این ایس ایف کے آزاد تشخص کا علمبردار ٹھہرا۔ اس دھڑے بندی کی وجوہات کے حوالے سے بھی تحریری مواد کا حسبِ معمول فقدان ہے جو صرف اس بات کی علامت نہیں ہے کہ پسماندہ سماج اور ثقافت کی وجہ سے تحریری صورت میں تاریخ کو محفوظ کرنے کی کوئی ریت، رواج اور عادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ساری لڑائیاں عمومی طور پر انتہائی سطحی نوعیت کے فوری معاملات پر ابھرتی تھیں جن کے پس پردہ شخصی اور گروہی اختلافات بھی موجود ہوتے تھے۔

اگر کسی نظریاتی و سیاسی طور پر پختہ رجحان کی عدم موجودگی کی وجہ سے جنم لینے والی کمزوری کی عکاسی کرتے ہوئے بعض لوگ اپنے ارد گرد موجود رجحانات کے دباؤ کے آگے جھک جاتے تھے، یہاں تک کہ ایسے رجحانات کے سامنے بھی جن کے نظریات این ایس ایف کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے تھے تو ان کے اندر یہ خامی خود این ایس ایف کے اندر موجود نظریاتی ابہام اور کمزوری کے باعث ہی پیدا ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب ہمیں اس عمل کا ناگزیر ا ور فطری ردِ عمل نظر آتا ہے جو این ایس ایف کے آزادانہ تشخص کے نام پر اس قسم کی مداخلت کے خلاف تنظیم کے تحفظ کے رجحانات کی نمائندگی کرتا ہے جو پھراین ایس ایف  کے ساتھ وابستگی کو ایک انتہاکی جانب دھکیل کے ایک تنظیمی شاونزم اور استصنام پیدا کیے بغیر ممکن نہیں تھا۔این ایس ایف کے آزادانہ تشخص کو برقرار رکھنے کی جدوجہد نے بعض اوقات نسبتاً مثبت کردار ادا کیا خاص کر ایسے رجحانات کے خلاف جن کا برائے نام بھی کوئی نظریہ نہیں تھا۔ این ایس ایف ان سے ہر حوالے سے بہتر اس لئے تھی کہ جدوجہد کے لئے درکار ضروری نظریاتی وضاحت نہ ہونے کے باوجود اس کی بنیاد میں اس عہد کے سب سے جدید نظریات کا ذکر موجود تھا۔ یہ عمل وقتی طور پر تنظیم کے تحفظ میں ایک خاص حد تک کامیابی سے ہمکنار تو ہوتا رہا لیکن این ایس ایف کو بیرونی نظریات و سیاست کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں اس طریقۂ کار کے ذریعے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔ اسی لئے ہمیں یہ کشمکش مسلسل نظر آتی ہے۔ این ایس ایف کو اس قسم کے اثرات سے محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس کے اپنے بنیادی نظریات یعنی سائنسی سوشلزم کی درست وضاحت اور ان نظریات پر طالب علموں کی شعوری تربیت کے عمل کو اس حد تک بلند معیار پر لے جانا تھا کہ تمام کارکنان اپنی شعوری و نظریاتی پختگی و بالیدگی کے حوالے سے دیگر سیاسی رجحانات سے برتر ہو سکیں۔

اس سمت میں ہمیں ایک واضح سفر دکھائی دیتا ہے اگرچہ اس کی رفتار کافی سست تھی۔ 1984-85ء میں شائع ہو نے والا ایک لیف لیٹ جو این ایس ایف کے آزادانہ تشخص کے حامی دھڑے کا شائع کردہ ہے اس حوالے سے چند شواہد فراہم کرتا ہے۔ اس لیف لیٹ کے سرِ ورق پر ہمیں این ایس ایف کا لوگو اور علم، جدوجہد، فتح پہلی بار ملتا ہے جو 1978ء میں شائع ہونیوالے منشور یا کارکردگی رپورٹ پر موجود نہیں تھا جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس کو 1978ء کے بعد اور غالب امکان ہے کہ اس کو اسی عرصے میں اپنایا گیا ہے۔ اس لیف لیٹ میں شائع ہونے والا پروگرام1978ء کے پروگرام ہی کی نقل ہے جس میں بعض جگہوں پر چند الفاظ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جیسے این ایس ایف کی نظریاتی بنیاد میںآزادی، قوم پرستی اور سوشلزم کی بجائے آزادی، خودمختاری اورسائنسی سوشلزم کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ ہمیں عوامی مسلح جدوجہد، آزادی، غیر طبقاتی سماج کے قیام جیسی اصطلاحات کے ساتھ پہلی بار محنت کی بالا دستی کا قیام اورسرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے خاتمے جیسی اصطلاحات کا استعمال ملتا ہے لیکن پھر متضاد طور پر جون1985ء میں شائع ہونے والے پرچے 'بلیٹن‘ میں'' قومی جمہوری انقلاب تیز کرو‘‘ جیسی اصطلاحات بھی ملتی ہیں۔ بلیٹن کے نام سے پرچے کی اشاعت ا س بات کا ثبوت ہے کہ پرچے کا نام 'عزم‘1985ء کے بعد کے عرصے میں رکھا گیا۔ لیکن ایک ماہانہ پرچے کی اشاعت جو یقیناً بہت باقاعدہ نہیں ہوئی ہو گی اپنی بے قاعدگی کے باوجود ایک انقلابی تنظیم کے بنیادی لوازمات میں سے ایک ہے جو این ایس ایف کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ انہی کی طرح ایک نامکمل کیفیت میں ہی سہی لیکن موجود ضرور رہا ہے۔

انیس سو چھیاسی  میں ایک بار پھر دونوں دھڑوں کا مشترکہ کنونشن منعقد کرایا گیا جس میں بھی سابقہ دھڑے بندی ختم کرائی گئی لیکن یہیں ایک نئی دھڑے بندی کے حالات بھی پک کر تیار ہوچکے تھے۔ 1985ء میں میر پور کے مقام پر ''پیپلز نیشنل پارٹی(پی این اے )‘‘ کے نام سے ایک بائیں بازو کی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو این ایس ایف کے تمام متحرک کارکنان اور سابقہ قائدین کی ایک بڑی تعداد اس کی جانب راغب ہونا شروع ہو گئی۔ پی این اے کشمیر کی پہلی بائیں بازو کی سٹالنسٹ پارٹی تھی جو مارکس، لینن، سٹالن اور ماؤ کی تحریروں کا کسی حد تک تفصیلی مطالعہ رکھنے والے لوگوں نے تشکیل دی تھی اور اسی حوالے سے اس پارٹی نے کشمیر کی تمام قوم پرست اور ترقی پسند پارٹیوں پر کافی حد تک نظریاتی اور سیاسی بر تری حاصل کر لی۔ این ایس ایف پر بھی اس کے فوری اثرات مرتب ہوئے اور1986ء میں ہونیوالی دھڑے بندی ایک حد تکپی این اے  کی جانب جھکاؤ رکھنے والے اور ان کے مخالفین کے درمیان ہوئی۔ 1987ء میں شائع کیے جانے والے منشور کی مندرجہ ذیل سطور کو طویل عرصے تک این ایس ایف کے نظریات کی معراج سمجھا جاتا رہا جو غالباً پی این اے  کی جانب جھکاؤ رکھنے والے دھڑے نے شائع کیا۔ ''ہم عالمی سامراجی کیمپ کو کرۂ ارض پر ناسور تصور کرتے ہیں اور دنیا بھر میں عالمی سامراجی کیمپ کے خلاف برسر پیکار قوتوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی سامراج کا وجود ہی دنیا بھر میں بھوک، ننگ، افلاس، قحط، جنگ استحصال، ظلم، جبر، بربریت اور سماجی ناانصافی کا باعث ہے۔ چنانچہ ہم عالمی سامراجی کیمپ کو نیست ونابود کرنے کی خاطردنیا بھر میں طالبعلم، مزدور، کسان اتحادکے پرچم تلے جدوجہد کے داعی ہیں۔ ‘‘

در حقیقت سٹالنزم کے تحت جس حد تک نظریاتی معراج حاصل کی جا سکتی تھی وہ اتنی ہی تھی جو اس اقتباس سے ظاہر ہے۔ ان سطور پر غور کیا جائے تو یہ سرد جنگ کے دوران سٹالنسٹ بلاک کے زیر اثر پروان چڑھنے والی فکر اور استعمال ہونے والی اصطلاحات کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ عالمی سامراجی کیمپ کی اصطلاح اپنے اندر ایک دوسرے کیمپ کے وجود کا پتہ دیتی ہے جو سٹالنسٹ کیمپ تھا۔ یہ دھڑا جس کا جھکاؤپی این اے  کی جانب تھا، کسی حد تک نظریات کے فروغ اور بڑے پیمانے پر ان کی بنیاد پر کارکنان کی تربیت کی کوشش کر رہا تھااور ان کے ہاں اپنے مخالف دھڑے کے قائدین کے بارے میں یہ رائے آج تک عام پائی جاتی ہے کہ وہ این ایس ایف کے منشور سے سوشلزم کے نظریات نکالنے کے پرزور حمایتی تھے۔ اگرچہ یہ رائے بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی آئی ہے۔ بحر حال یہ دھڑے بندی اگلے چند سالوں تک جاری رہی اور ماضی کی دھڑے بندیوں کی طرح فوری نہیں ختم ہوئی۔ اس دھڑے بندی کے زیادہ طویل عرصے تک قائم رہنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ پہلی بار محض حکمتِ عملی یا طریقہء کار پر اختلافات کی بجائے کسی حد تک نظریاتی بحث و مباحثے کی بنیاد پر اختلافات کا جنم ہوا تھا۔

اسی عرصے میں ایک جانب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بغاوت کی پہلی بڑی لہر پھوٹ پڑی۔ کشمیر ی محنت کشوں اور نوجوانوں کی اس سر کشی نے اس پار بھی بڑے پیمانے پر آزادی پسند قوتوں کو تقویت دی۔ تحریکِ آزادی کشمیر کے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے اور جے کے ایل ایف  کے پلیٹ فارم سے اس مسلح تحریک کوآئی ایس آئی Iکی معاونت سے چلانے کے خلاف این ایس ایف نے اس طریقۂ کار کی مخالفت کا موقف اپنایا۔ اسی عرصے میں سو ویت یونین کے انہدام کے باعث بائیں بازو کی تحریک عمومی طور پر مایوسی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہو چکی تھی۔

لیکن پھر1990ء میںاین ایس ایف کے ایک دھڑے نے پاکستانی و بھارتی مقبوضہ کشمیر کو علیحدہ کرنے والی کنٹرول لائن کو عبور کرنے کی کال دی۔ یہ اقدام این ایس ایف کے نوجوان کارکنان کے لئے تحریکِ آزادی کشمیر کے عروج کے وقتوں میں انتہائی دلکشی کا حامل تھا۔ این ایس ایف کے سر بکف نوجوان اس خونی لکیر کو اپنے پاؤں تلے روندنے کے لئے چکوٹھی سیکٹر سے کنٹرول لائن عبور کر گئے اور لائن کے دوسری جانب این ایس ایف کے جھنڈے لہراتے ہوئے بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں تین کارکنان شہید ہو گئے۔ جہاں یہ واقعہ ایک جرأت اور عزم کی علامت اور مثال کے طور پر آج بھی زندہ ہے وہیں یہ واقعہ کئی حوالوں سے ایک ایسی مہم جوئی تھی جو اس کارنامے کو سرانجام دینے والی قیادت کے احساس پر ایسا بوجھ بن گئی کہ وہ کبھی بھی دوبارہ نارمل زندگی نہیں گزار پائے۔ لیکن اس کے ساتھ اس وقت این ایس ایف  کے دوسرے دھڑے نے نہ صرف اس مارچ سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کیا بلکہ بقول قیادت کہ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اسے اجتماعی خود کشی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس بات کے درست ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں چونکہپی این اے  کی جانب نظریاتی جھکاؤ رکھنے والے دھڑے کا سیاسی موقف یہ رہا ہے کہ جو جس کا غلام ہے اس کے خلاف جدوجہد کرنا اسی کا فریضہ ہے اور یہ بالکل غیر منطقی اور احمقانہ بات ہے کہ میر پور یا مظفرآباد کا قیدی یہ کہے کہ میں پہلے سری نگر یا جموں8 کے قیدیوں کی آزادی کی جنگ لڑوں گا او ران کو آزاد کرانے کے بعد اپنی آزادی کی جدوجہد کروں گا۔

تحریکِ آزادی کشمیر کی پسپائی اور سوویت یونین کے انہدام نے نظریاتی بحث و مباحثے کو شدت دینے کی بجائے اس کو کم کر دیا اور ایک بار پھر این ایس ایف کو متحد کر کے1993ء میں مشترکہ کنونشن منعقد کیا گیا۔ اپنے نظریات سے دستبردار ہو کر مشترکہ کنونشن کا انعقاد، درحقیقت پی این اے  کی جانب جھکاؤ رکھنے والے دھڑے کا اعتراف شکست تھاجو سوویت یونین کے انہدام کا منطقی نتیجہ تھا۔ نظریاتی وضاحتوں کی بجائے سوویت یونین کی ظاہری ترقی اور کامیابیوں کو دلائل کے طور پر پیش کرنے والوں کی ہر دلیل اور جواز دیوارِ برلن کے ملبے تلے دب گئی تھی۔ اسی بنیاد پر اگلے کچھ عرصے کے لئے نظریاتی بحثوں میں کمی کا رحجان حاوی ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کنونشن میں ایک بار پھر ایک نئی دھڑے بندی ہوگئی جو حسب روایت تھوڑا عرصہ قائم رہنے کے بعد ختم ہو گئی۔

پارٹی کا قیام

ایک انقلابی تنظیم کی نظریاتی و سیاسی رہنمائی کی عدم موجودگی این ایس ایف میں جہاں مختلف سیاسی رجحانات و پارٹیوں کے زیرِ اثر دھڑوں کو تشکیل دیتی رہی وہیںاین ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سیاسی تربیت پانے والے کارکنان و قائدین طلبہ سیاست سے فارغ ہونے کے بعد زیادہ تر دوسری سیاسی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ ان تمام تلخ تجربات سے گزرنے کے بعد1993ء میں ایک عوامی پارٹی کی تشکیل کے حوالے سے کچھ حلقوں میں بے شمار جوش و خروش پیدا ہوا۔ اس حوالے سے ایک کوشش یہ بھی کی گئی کہ موجود پارٹیوں میں سے ایک دو سب سے زیادہ ترقی پسند پارٹیوں کو ضم کر کے ایک نئی پارٹی تشکیل دی جائے اور این ایس ایف کو اس کا سٹوڈنٹس ونگ قرار دیا جائے۔ اس کوشش کی ناکامی کے بعد ایک نئی پارٹی کی تشکیل کی گئی۔ یہ تمام اقدامات ایک جانب سوویت یونین کے انہدام اور چین میں سرمایہ داری کی ا ستواری سے اور دوسری جانب بھارتی مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کی پہلی سرکشی کی ناکامی کے بعد پسپائی، ٹوٹ پھوٹ اور مایوسی کے انتہائی مشکل ترین معروض میں اٹھائے گئے اور ان کے ساتھ بے شمار معجزاتی امیدیں وابستہ کی گئیں۔ اس کے علاوہ ایک عوامی پارٹی کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی و نظریاتی وضاحت اور طریقۂ کار و حکمتِ عملی کے حوالے سے بحث و مباحثے کواین ایس ایف کے کارکنان کی وسیع تر پرتوں تک پہنچائے بغیر ہی 1995ء میں '' نیشنل عوامی پارٹی(این اے پی )‘‘ کے نام سے این ایس ایف نے اپنی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ عوامی پارٹی میں سابقہ قائدین اور کارکنان کی مٹھی بھر تعداد کے علاوہ توکچھ نہیں تھا اس لیےاین اے پی اپنے آغاز سے ہی اپنی سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالے سے این ایس ایف کی عددی قوتوں پر انحصار کرتی تھی۔ اپنی بنیادیں عوام میں پھیلانے میں شروع ہی سے ناکام رہی ا س لیے جلد ہی این ایس ایف کی اپنی تخلیق کردہ عوامی پارٹی کیساتھ ایک نئی چپقلش اور بحث و تکرار کا آغاز ہو گیا کہ آیا این ایس ایف  ، این اے پی کا سٹوڈنٹس ونگ ہے یا اس کی اتحادی تنظیم؟ ونگ یا اتحادی پارٹی کی صورت میں ابھرنے والی بحث درحقیقتاین اے پی کی صورت میں عوامی پارٹی کی تشکیل کے تجربے کی ناکامی کا اظہار تھا۔ دوسری جانب عالمی سطح پر سٹالنزم کے انہدام نے جن بے شمار سوالات کو جنم دیا تھا ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ کیا یہ سوشلزم کی ناکامی ہے؟ کیا سوشلزم کا نظریہ حقیقت میں نا قابلِ عمل اور غیر فطری ہے؟ اسی قسم کے بے شمار سوالات جو براہ راست سٹالنزم کے انہدام سے جنم لے رہے تھے ان کا تسلی بخش جواب سوشلزم کے نظریات سے وابستہ بے شمار مخلص اور دیانتدار کارکنوں نے پہلی بار سرکاری سوشلزم یعنی سٹالنزم کے باہر تلاش کرنے کی کوشش شروع کی۔ اسی تلاش میں سرگرداں این ایس ایف کے چند کلیدی کارکنان کے90ء کی دہائی کے آخری چندسالوں میں عالمی مارکسی رحجان کے نام سے کا م کرنے والی ایک بین ا لاقوامی تنظیم کے ساتھ سیاسی، نظریاتی اور تنظیمی روابط استوار ہونا شروع ہوئے۔ آئی ایم ٹی  نے نہ صرف سوویت یونین کے انہدام کی مکمل سائنسی وضاحت کے ساتھ سٹالنزم کے مخصوص مظہر کے ابھار اور زوال کا مارکسی تجزیہ پیش کیا بلکہ قومی سوال پر مارکسی موقف سے لے کر انقلابی پارٹی کی تعمیر کے درست سائنسی طریقہ کی بھی وضاحت کی۔ ان تمام بحثوں سمیت مارکسی فلسفے پر مفصل تحریری مواد کی فراہمی نے این ایس ایف کے ان کارکنان کے لئے جدوجہد کے نئے افق روشن کر دئیے۔ ان کارکنان نے ہی90ء کی دہائی کے آخری سالوں میں ونگ اوراتحادی پارٹی کے گرد ہونیوالی فروعی بحثوں کو جدلیاتی مادیت، تاریخی مادیت، مارکسی معیشت، قومی سوال اور مارکسی بین ا لا قوامیت سمیت مارکسزم کے حوالے سے دیگر بے شمار کلیدی اہمیت کی حامل نظریاتی بحثوں میں تبدیل کر دیا۔

ایک نئی کشمکش نےاین ایس ایف کے اندر جہاں ایک نئی روح پھونکی وہاں پھر ایک دوسر ی تنظیم کے نظریات کو این ایس ایفکے اندر پھیلنے سے روکنے کے لئے ایک نئی صف بندی کا آغاز ہو گیا۔ ایک بار پھر این ایس ایف کو کسی دوسری تنظیم کے نظریات سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک جدوجہد کا آغاز کیا گیا لیکن اب کی بار یہ جدوجہد زماں و مکاں اورمواد کے حوالے سے ترقی پسندی سے مکمل طور پر عاری تھی۔ اس لئے کہ وہ سوشلزم جو تین دہائیوں سے این ایس ایف کا بنیادی نظریاتی ستون قرار پاتا رہا اس کی پہلی باردرست وضاحت این ایس ایف کے کارکنان کی وسیع پرتوں تک پہنچائی جا رہی تھی۔ یہ نئی نظریاتی کشمکش چند سال تک جاری رہنے کے بعد بالآخر 2004ء میں ایک پھوٹ پر منتج ہوئی اور دھڑے بندی کا یہ عمل2006ء میں باقاعدہ طور پر ایک الگ کنونشن کے انعقاد کی صورت میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔

سوشلزم کے نظریات کے پھیلاؤ کی جدوجہد کا آغاز کرنے والے انقلابی کارکنان نے ایک طویل اور مشکل جدوجہد کے بعد2006ء میں این ایس ایف کے ایک مضبوط دھڑے کی قیادت سنبھالتے ہیاین ایس ایف کے اس دھڑے کا باقاعدہ اور علی الا علانآئی ایم ٹی کے ساتھ الحاق کیا۔ این ایس ایف کی تاریخ میں یہ ایک سنگِ میل تھا جس کو عبور کرنے والی قیادت اپنی جرات اور بلند شعوری معیار کے حوالے سے لائقِ تحسین ہے کہ این ایس ایف اپنی تاریخ میں پہلی بار کسی حقیقی مارکسی بین الاقوامی تنظیم کے نظریاتی اور تنظیمی ڈسپلن کا حصہ بنی تھی۔ قومی تنگ نظری اور تعصب جیسی رکاوٹوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک بین ا لاقوامی پرولتاری تنظیم میں محنت کش طبقے کی عالمگیر یکجہتی اور حقیقی پرولتاری ثقافت سے روشناس ہوئی۔ پہلی بار این ایس ایف کے کارکنان نے قومی آزادی کی جنگ کو طبقاتی جدوجہد کے ذریعے سوشلسٹ انقلاب کی فتح کی جدوجہد سے منسلک کیا۔ 2006ء کے کنونشن میں پاس کیے جانے والے منشور میں لکھا ہے ''طلبہ حقوق کی بحالی کی عملی جدوجہد کے نتائج نے یہ واضح کیا کہ طلبہ مسائل کے حل کی جدوجہد محنت کش طبقے یعنی مزدوروں اور کسانوں کے مسائل کے حل کے ساتھ منسلک ہے۔ سماج کے تمام محکوم طبقات کی آزادی اور نجات کی جدوجہد سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے میں مضمر ہے اور اس کی جدوجہد عالمی پیمانے پر محنت کش طبقے کی طبقاتی جڑت اور یکجہتی کی بنیاد پر ہی ممکن ہے جو غیر طبقاتی سماج کے قیام اور عالمی امن کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔ این ایس ایف کی چالیس سالہ جدوجہد کے تسلسل کے یہی وہ اسباق ہیں جن کی بنیاد پر این ایس ایف نے کشمیر کی آزادی کی جدجہد کو برصغیر کے محنت کش طبقے کی نجات کی جدوجہد کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر منسلک کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی لڑنے کا عزم کیا ہے‘‘( منشورصفحہ نمبر 1-2 پاس کردہ، مرکزی کنونشن 21-20 ستمبر، راولاکوٹ)

اس منشور میں ہمیں پہلی بار نظریاتی حوالے سے ماضی کے تمام شائع شدہ مواد(جو بھی دستیاب ہو سکا ہے)کے مقابلے میں ایک حقیقی معیاری جست نظر آتی ہے۔ سٹالنزم کے قومی سوشلزم یعنی قوم پرستی اور مسخ شدہ سوشلزم کے بیہودہ ملغوبے اورمرحلہ وار انقلاب جیسے غلط اور فرسودہ نظریات سے مکمل طور پر ناطہ توڑتے ہوئے پہلی باراین ایس ایف نے کشمیر کی قومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے اس لڑائی کوبرصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن سے بالخصوص اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے ساتھ بالعموم طور پر وابستہ کیا۔ وہ سبھی آدرش جن کی مبہم گونج ہمیں این ایس ایف کی پوری تاریخ میں سنائی دیتی ہے ان کو پہلی بار درست سائنسی اصولوں کی ٹھوس بنیاد اور زندگی و معنی سے بھرپور الفاظ کا لبادہ میسر آیا۔

اسی منشور کے صفحہ نمبر7اور8 پر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے گئے ہیں'' سرمایہ داری نظام کو عالمی سطح پر شکست دےئے بغیر سوشلزم کی تعمیر اور نسلِ انسانی کی حقیقی آزادی ممکن نہیں۔ موجودہ عہد کی سب سے بنیادی خاصیت یہی ہے کہ اس عالمگیریت کے عہد میں جہاں استحصال اور جبرو غلامی بین الاقوامی ہے تو اس استحصال اور غلامی کے خلاف ابھرنے والی محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریک کا کردار بھی بین الاقوامی ہے۔ اسی بنیاد پر این ایس ایف یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کو فتح مند کرنے کے لئے برصغیر اور دنیا بھر کے محنت کشوں کی تحریکوں سے طبقاتی جڑت بناتے ہوئے سرمایہ داری کے خاتمے اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کرنا ہوگی۔۔۔ این ایس ایف نے کشمیر سے سرمایہ داری کے خاتمے کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے لیکن کشمیر کے ارد گرد دیگر ممالک میں اگر سرمایہ داری نظام باقی رہا تو وہ اس جنت کو جہنم بنا دے گا اس لئے کشمیر کی جنت کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پورے کرہ ارض کو جنت بنایا جائے اور یہ صرف ایک فتح مند عالمی سوشلسٹ انقلاب کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کی تکمیل کا آغاز کشمیر کے نوجوانوں نے کر دیا ہے اور جس کی تکمیل دنیا بھر کے محنت کش کریں گے۔ عالمی سوشلسٹ انقلاب کا علم تھامے آگے بڑھو، آخری فتح ہماری ہوگی‘‘۔

مارکسزم کے سائنسی نظریات اور ایک بین الاقوامی پرولتاری تنظیم یعنی آئی ایم ٹی  کیساتھ وابستگی نے این ایس ایف کے اس دھڑے کو ہر حوالے سے باقی دھڑوں سے ممتاز اور بلند کر دیاتھا۔ نظریاتی تربیت کے فروغ نے شخصی اور گروہی لڑائیوں کے رجحان کو کم کرنا شروع کر دیا تھا۔ سیاسی اور نظریاتی معیار میں اضافے کے ساتھ ایک بلند ثقافتی معیار کی تعمیر کے عمل کا آغاز ہوا۔ 2007ء میں فہیم اکرم شہید کی برسی پر ایک کتابچہ شائع کیا گیا جس میں افراد کے کردار کی وضاحت کے علاوہ مارکسزم کے نظریات اور بین الاقوامیت کی تاریخ کا بھی مختصر احاطہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس کتابچے میں سوویت یونین کے زوال اور انہدام کا مارکسی تجزیہ بھی پیش کیا گیا جس نے ان تمام سوالات کا جواب فراہم کیا جو 1990ء میں سٹالنزم کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے۔ اس کتابچے میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ1990ء میں سوویت یونین کا انہدام ایک جانب سرمایہ داروں اور دوسری جانب سٹالنسٹوں کے لئے حیرت کا باعث تھا جبکہ حقیقی مارکسسٹوں نے انیس سو بیس  کی دہائی میں اس کے مشروط انہدام کا تناظر پیش کر دیا تھا۔ صفحہ نمبر11اور12پر لکھا ہے''1924ء میں لینن کی وفات کے بعد سٹالن نے جب'' قومی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگایا تو وہی لوگ جنہوں نے1914ء میں قومی جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے دوسری انٹرنیشنل میں لیفٹ اپوزیشن بنائی تھی، انہوں نے ہی ایک بار پھر قیادت کے اس مجرمانہ فعل پر ٹراٹسکی کی قیادت میں بھی لیفٹ اپوزیشن قائم کر کے نظریات کا دفاع کیا۔۔۔ جبکہ1943ء میں سٹالن نے تیسری انٹرنیشنل کے اپنے دھڑے کو عملاً ختم کرنے کا اعلان کر کے نظریاتی انحراف کی آخری حد بھی عبور کر لی تھی۔ یہی وہ بنیادی غلطی یعنی سوشلزم کے عالمی پھیلاؤ کی ضرورتوں کو محسوس نہ کرنا سوویت یونین کے زوال کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی۔ 1924ء میں ہی انقلاب روس کے معمار لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا'' اس ساری کیفیت میں سوویت یونین کا انقلاب تباہ ہو جائے گا بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ پہلے زوال پذیر ہو گا اور پھر تباہ ہو جائیگا‘‘ اور یہی ہوا‘‘۔

یہ وہ ٹھوس سائنسی وضاحتیں تھیں جن کی بنیاد پر این ایس ایف کے کارکنان نے پہلی بار سوشلزم کی بھونڈی اور مسخ شدہ شکلوں اور سوشلزم کے خاتمے اور ناکامی کے سامراجی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے عظیم فریضے کو آگے بڑھانے کی اہلیت حاصل کی تھی۔ لیکن تاریخ میں کوئی بھی سفر کبھی بھی ایک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتا۔ این ایس ایف کے اس سفر نے بھی2016ء کے اوائل میں ایک ڈرامائی موڑ مڑا جو این ایس ایف کے اس دھڑے کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

دوسری جانب این ایس ایف کا جو دھڑا تھا وہ خود کو مارکسی دھڑے سے ممتاز کرنے کے لئے دوسری انتہا یعنی تنگ نظر قوم پرستی کی جانب پیش قدمی کر گیا۔ اس دھڑے میں مزید ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہا اور تین دھڑے بن گئے جن کے آپسی اختلافات نام کی حد تک بھی کسی نظریاتی یا سیاسی عنوان سے محروم رہے۔ جبکہ آئی ایم ٹی کیساتھ وابستہ دھڑا نسبتاً بڑی ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہا جو کسی حد تک سوشلسٹ انقلاب جیسے عظیم مقصد کی اہمیت سے آگہی اور نظریاتی شعور میں اضافے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اگرچہ اس دھڑے سے بھی 2011ء میں چند افراد پر مشتمل ایک گروہ شخصی اور فروعی اختلافات کی بنیاد پر علیحدہ ہوا تھا لیکن یہ ہر حوالے سے ناقابل ذکر پھوٹ تھی۔ عددی اعتبار کے حوالے سے بھیآئی ایم ٹی سے وابستہ این ایس ایف کا دھڑا دیگر دھڑوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط رہا جو نظریاتی برتری کا واضح ثبوت تھا۔

اگرچہ این ایس ایف کے اندر مارکسزم کے نظریات کی لڑائی ایک ایسے عہد میں لڑی گئی جب عمومی طور پر کشمیر میں قومی آزادی کی سیاست کیساتھ ساتھ طلبہ سیاست بھی زوال پذیری کا شکار تھی۔ جہاں این ایس ایف کے دوسرے دھڑے سمیت تمام قوم پرست پارٹیاں ایک ٹوٹ پھوٹ اور زوال کے عمل سے بری طرح متاثر ہو رہی تھیں وہاں IMTکے ساتھ وابستہ دھڑے کی قابلِ ذکر کامیابی دراصل انٹر نیشنل کی طبقاتی یکجہتی، درست نظریات اور تناظر کی سچائی کی بدولت ممکن ہوئی تھی۔

دو ہزار سولہ کے آغاز میں آئی ایم ٹی کے پاکستانی سیکشن میں اختلافات کے شدت اختیار کرنے کے باعث ایک پھوٹ نے جنم لیا جس میں سیکشن کی اکثریت نے آئی ایم ٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔این ایس ایف  کی قیادت نے بھی اکثریت کا ساتھ دیا اور اسی لئے گنے چنے کارکنان کو چھوڑ کر پورے دھڑے نے آئی ایم ٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے 'جدوجہد‘ گروپ کا ساتھ دیا۔

جدوجہد گروپ نے اس پھوٹ کی سیاسی وضاحت کی بجائے ایک سازشی تھیوری کے ذر یعے اس پورے عمل کو ایک سازش کا نتیجہ قرار دیا۔ پاکستانی سیکشن میں اختلافات کرنے والوں سے لے کر پوری انٹرنیشنل ایک سازشی ٹولے میں تبدیل کر دی گئی۔ مارکسی تنظیموں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ انقلابی کارکنان کی تربیت کے لئے نصاب کا درجہ رکھتی ہے چونکہ ایک پھوٹ کے عمل کے ذریعے جہاں انقلابی تنظیم کو غیر فعال اور گلے سٹرے حصوں سے پاک کیا جاتا ہے وہیں اس عمل میں نظریات کا زیادہ باریک بینی پر مبنی بحث و مباحثہ اور طریقہ کار و حکمتِ عملی کی کڑی پرکھ کی جاتی ہے اور اس سب کو ضبطِ تحریر میں لایا جاتا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے انقلابی ان تجربات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ لیکن آئی ایم ٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والی جدوجہد کی قیادت نے اتنے بڑے تاریخی واقعے کی نہ صرف کوئی سیاسی وضاحت نہیں پیش کی اور اسے ایک سازش قرار دے کر اس سے مکمل چشم پوشی کا رویہ اختیار کر دیا بلکہ این ایس ایف کی عظیم قیادت نے بھی 'جدوجہد‘ کی قیادت کی اس مکروہ ردِ انقلابی روایت کی غلامانہ پیروی اور پاسداری کرتے ہوئے این ایس ایف کے آئی ایم ٹی سے الحاق اور پھر ایک دہائی کے بعد علیحدگی جیسے واقعات کی تاریخ لکھتے یا لکھواتے وقت ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ تاریخ کی جانب اس قسم کا بد یانتی اور مجرمانہ ذہنیت پر مبنی رویہ اپنانا کسی اخلاقی گراوٹ کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ ہی تاریخ کی جانب رویے کسی اخلاقی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔

تاریخ کے ساتھ تعلق انسان کی موجودہ زندگی کے مقاصد کی عملی نوعیت اور ضرورت سے متعین ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنی حالیہ زندگی کے مقاصد کے حصول کے لئے کسی بد عنوانی اور بد دیانتی کا مرتکب نہیں ہورہا تو اسے تاریخ کے کسی بھی واقع سے ایک شعوری اور مجرمانہ چشم پوشی کرنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی۔ لیکن اگر کوئی فرد ایسے فعل کا مرتکب ہو ر ہا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ خود اپنے موجود ہ مقاصد کے حصول کی خاطر اس حد تک بد عنوان ہو چکا ہے کہ اس کے وجود اور بقاء کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ تاریخ کو مسخ کرے۔ ایسا تاریخ میں ان گنت بار ہو چکا ہے لیکن مارکسزم کی تاریخ میں اس قسم کی سب سے بڑی مثال سٹالنزم کا ابھار تھا۔ سٹالنسٹ بیوروکریسی دنیا کے چھٹے حصے پر حکومت اور بے پناہ وسائل و ریاستی طاقت ہونے کے باوجود اپنے اندرونی کھوکھلے پن کے احساس کی وجہ سے ایک فرد یعنی لیون ٹراٹسکی سے اس حد تک خوفزدہ تھی کہ انہوں نے اس کے نا م اور یاد کو تاریخ سے کھرچ دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ ٹراٹسکی کی سیاسی اور نظریاتی تنقید کا جواب دینے کی بجائے ہر سیاسی مخالفت کوسی آئی اے کی سازش قرار دیا گیا۔ ٹراٹسکی کو دنیا بھر کی کمیونسٹ تحریک میں نصف صدی سے زیادہ عرصے تک کے لئےسی آئی اے کا ایجنٹ اور ٹراٹسکی ازم کے نظریات ایک سازش بنا دئیے گئے۔ یہ کھرا خالص سٹالنزم ہے کہ ہر سیاسی مخالفت کو سازش قرار دے دو۔ در حقیقت سیاسی دلیل کی عدم موجودگی اور خود ساختہ مہانتا کو برقرار رکھنے کی ضرورت جب یکجا ہو جاتے ہیں تو نظریہ سازش کے ذریعے مظلومیت کا ڈھونگ سب سے محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔
در حقیقت این ایس ایف کی قیادت کے آئی ایم ٹی سے علیحدگی کے فیصلے کی بڑی وجہ نظریاتی زوال پذیری کے باعث جدوجہد گروپ کے پاس موجود لاجسٹیکل فوقیت، دفاتر، مالیاتی آسودگی، سیاسی اشرافیہ سے مراسم اور شخصی و تنظیمی اثرو رسوخ کی طرف موقع پرستانہ جھکاؤ اور آئی ایم ٹی کے پاکستانی سیکشن کی عددی کمزوری، مالیاتی و لاجسٹیکل کسمپرسی اور ظاہری کمزوریوں سے فرار اور اجتناب کی نفسیات تھی۔ جس کا اظہار این ایس ایف کی موجودہ قیادت نے دورانِ پھوٹ آئی ایم ٹیکے پاکستانی سیکشن کے ساتھ ہونے والی بحثوں میں برملا کیا کہ 'آپ لوگوں کے پاس بچا ہی کیا ہے، مٹھی بھر لوگ جن کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں وغیرہ وغیرہ‘۔ لیکن اگر مذکورہ بالا تمام آرائشوں اور آسودگیوں کو کھو کر صرف نظریاتی ورثے کو ہی بچا لیا جائے تو یہ حقیقی فتح کا واضح اعلامیہ بن جاتا ہے۔ لیکن اس فتح کو دیکھنے، محسوس کرنے اور اس سے شکتی حاصل کرنے کے لئے نظریاتی و فلسفیانہ سمجھ بوجھ، غیر معمولی انقلابی لگن، قربانی کا جذبہ اورسب سے بڑھ کر جرات اور ولولے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی پیٹی بورژوا عملیت پسندوں اور رومانوی انقلابیوں سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ شروع میں اسی قیادت نے ہی آئی ایم ٹی کو حمایتی قراردادیں بھی ارسال کی تھیں۔ لیکن چونکہ وہ اس پھوٹ اور اس کی بنیاد میں کارفرما نظریاتی مواد سے بالکل بے بہرہ تھے اور قائدانہ جراتمندی کا فقدان تھا جس کے باعث انہوں نے بالآخر پھوٹ کی وجوہات، سیاسی موقف اوردیگر اہم بحث مباحثے کی 'ذہنی مشقت ‘سے کترا کر محض عددی میزان میں جھکے ہوئے پلڑے کے حق میں جے کے این ایس ایف  کی ساری سیاسی جدوجہد اور تاریخ کو داؤ پر لگا دیا۔ ان کی یہی کمزوری اور خصی پن ہی ہے جس کے باعث آج جب ریاست کے پروردہ مٹھی بھر بنیاد پرست جے کے این ایس ایف کے خلاف شر انگیز پروپیگنڈا کر رہے ہیں، دفتر کا تالہ توڑ کر ضروری دستاویزات چوری کرتے ہیں، نظریاتی و سیاسی کارکنوں کو زدو کوب کر رہے ہیں تو دلیری سے سیاسی میدان میں ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس کر 'موافق‘ حالات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اگر جرات سے درست حکمتِ عملی کے تحت احتجاج منظم کیئے جاتے تو انہی بنیادپرستوں پر زمین تنگ کی جا سکتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ غلط تناظر اور معروضی حالات سے بے بہرہ ہونے کے باعث کیسی کیسی سیاسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ جب آپ کو کامل یقین دلوا دیا گیا ہو کہ یہ جمود کا یا رجعتی قوتوں کی سماجی حمایت کا عہد ہے تو ایسے حالات میں ٹکرا جانے سے زیادہ بھاگ جانے کی نفسیات ہی غالب آ سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر موجودہ قیادت اپنے آپ کو 'بے ضرر‘ سیاست کی طرف راغب کرنے کے لیئے ہر حد سے تجاوز کرنے پر آمادہ دکھائی دے رہی ہے۔ چھبیس  نومبر سے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال بھارتی افواج کی فائرنگ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاجی کیمپیئن چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک تاریخ کی بلند ترین بغاوت اور اعلیٰ ترین سیاسی معیار کو چھو رہی ہے تو یہاں پر بھی اس مصنوعی ریاست سے آزادی کی تحریک کی تیاری کرنے کی بجائے تحریک کے کردار کو مسخ کر کے پاکستانی ریاست کے لیئے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر ماضی قریب پر نظر دوڑائی جائے تو اس طرح کے احتجاج جماعتِ اسلامی اور جماعت الدعوہ جیسی ریاست کی پالتو تنظیمیں کیاکرتی تھیں۔ وہی جے کے این ایس ایف جو تفاخر سے کہا کرتی تھی کہ اگر بھارتی مقبوضہ کشمیر سے نعرہ بلند ہو گاکہ 'ہم کیا مانگیں ‘ تو ہم پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے جواب دیں گے 'آزادی‘، آج اسی کی قیادت اس بائیں بازو کی تنظیم کو دائیں جانب سرکاتے ہوئے ایک 'نرم خو‘ سنٹر رائٹ کی تنظیم میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور پھر اس مکروہ عمل کی پردہ پوشی کے لیئے اپنی ہر بات کو سوشلزم سے منسوب کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ یوں تو دنیا کے امیر ترین آدمی بل گیٹس نے بھی حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس کرہ ارض کو صرف سوشلزم ہی بچا سکتا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ بل گیٹس کو بھی بائیں بازو کا لیڈر تسلیم کر لیا جائے؟ مختصر یہ کہ اس 26 نومبر کو جے کے این ایس ایف کی آئندہ سیاسی تاریخ میں یومِ سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ماضی کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہوتا!

'جدوجہد‘ کی قیادت کو اس پھوٹ سے کچھ عرصہ پہلے سے یہ خبط ہو گیا تھا اور ہر وقت یہ فقرہ دہرایا جاتا تھا کہ ماضی کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ اگر واقعی ماضی کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہوتا تو این ایس ایف کی پچاس سالہ تاریخ کے کتابچے میں سےآئی ایم ٹی  کا باب حذف کر کے 'جدوجہد‘ گروپ کیساتھ وابستہ این ایس ایف کے دھڑے کا کون سا مستقبل تعمیر کیا جا رہا ہے؟ یا شاید تاریخ لکھتے وقت زیادہ پرانے واقعات یاد سے محو ہو جاتے ہیں اسی لئے ان کا ذکر تک نہیں کیاگیا۔ این ایس ایفنےآئی ایم ٹی کے ساتھ الحاق2006ء قبلِ مسیح میں کیا تھا اور اس کے ایک دہائی بعد اس سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تھا اورجدوجہد گروپ نے این ایس ایف کی پچاس سالہ تاریخ کا کتابچہ2016 عیسوی میں لکھا۔ اب 'ہزاروں‘ سال پہلے رونما ہونے والے واقعات کی تاریخ لکھتے وقت اتنی بھول چُوک تو کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔

این ایس ایف کی تاریخ کے اس اہم باب کے انتہائی اہم اسباق ہیں جن کو اخذ کیے بغیر این ایس ایف کے مستقبل کے حوالے سے درست سمتیں متعین کرنا مشکل ہے۔ کیا آئی ایم ٹی کے ساتھ الحاق کا فیصلہ این ایس ایف کی تاریخ کا ایک غلط اقدام تھا اور موجودہ قیادت نے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اس غلطی کا ازالہ کر دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی وضاحت کی جانی چاہیے۔ آئی ایم ٹی سے جدوجہد گروپ کی علیحدگی جس کی وجہ سے این ایس ایف نے بھی علیحدگی اختیار کی مبینہ طور پرآئی ایم ٹی کی زوال پذیری کے باعث ہوئی تو اس زوال پذیری کو تحریری صورت میں سامنے لانے کی بجائے اس کا ذکر کرتے ہوئے ہچکچاہٹ اور شرمندگی کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ مارکسزم کی تاریخ میں ایسی جدوجہدوں کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لینن نے دوسری انٹر نیشنل کی زوال پذیری کے خلاف ایک کھلی جنگ لڑی تھی اور سوشل شاونزم کے خلاف بے شمار نظریاتی مواد تحریر کیا تھا۔ ٹراٹسکی نے تیسری انٹر نیشنل کی زوال پذیری کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے نظریات کا خزانہ تخلیق کیا۔ اسی طرح مارکس اور اینگلز اپنے عہد کے تمام رحجانات کے خلاف نظریاتی جدوجہد کے دوران بے شمار تحریری مواد کا اثاثہ انقلابیوں کی رہنمائی کے لئے چھوڑ گئے۔ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ لینن اور ٹراٹسکی کی انقلابی وراثت کے دعویداروں کی جانب سے ایک ندامت بھری خاموشی کا راستہ اپنایا جارہا ہے؟ آئی ایم ٹی  کی کون سی غلط پالیسیاں تھیں یا سیاسی و نظریاتی طور پر غلط پوزیشنیں تھیں جن پر اختلافات کی وجہ سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیااور این ایس ایف کی قیادت کا ان پر کیا موقف ہے؟ قوم پرستی سے آگے بڑھتے ہوئے مارکسی بین الاقوامیت کا حصہ بننا ایک زبردست نظریاتی پیش رفت اور ترقی کی جانب ایک معیاری جست تھی لیکن اب جب انٹرنیشنل سے علیحدگی اختیار کی گئی ہے تو اب کیا موقف اپنا یا جا رہا ہے اور پیچھے کی جانب اس چھلانگ کی کیا نظریاتی وضاحت ہے؟

عددی قوت کا سوال

کسی بھی انقلابی تنظیم کے لئے اس کی عددی طاقت کا سوال بنیادی اہمیت کے حامل سوالات میں سے ایک ہوتا ہے لیکن یہ ہمیشہ نظریاتی سوالات کے تابع ہوتاہے۔ مارکسی نظریات پر کاربند تنظیمیں کبھی بھی نظریاتی سوالات اور بحثوں کو پس پشت محض اس لئے نہیں ڈال دیتی کہ اس بحث و مباحثے کی وجہ سے کسی ٹوٹ پھوٹ کا خدشہ ہوسکتا ہے جو تنظیم کی عددی طاقت کو گھٹانے کا موجب بنے گا۔ اس کے برعکس سیاسی، نظریاتی اور تناظر سمیت ہر قسم کے بحث و مباحثے کے ذریعے ایک بلند معیار کی شعوری ہم آہنگی کی تعمیر کو تو ہم پرستانہ تقلید و پیروی کی ہر روش پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے۔ کبھی بھی نظریات کو فراموش کر کے، پس پشت ڈال کے یاموقف کو تھوڑا نرم کر کے بڑی پارٹی کے نام پر ہجوم اکھٹے نہیں کئے جاتے اورپھر ان اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لئے معروض کی مشکلات کی فہرست نہیں پیش کی جاتی بلکہ اس کے الٹ اگر معروض کی مشکلات اس حد تک بڑھ جائیں کہ ان کے زیر اثر انقلابی تنظیم کے کام کو بڑے پیمانے پر جاری نہ رکھا جا سکے تو ایسے ڈھانچوں کو توڑ دیا جاتا ہے اور تمام توجہ درست نظریات کے دفاع پر مرکوز کر دی جاتی ہے۔ جیسا کہ مارکس اور اینگلز نے 1871ء میں پیرس کمیون کی شکست کے بعد کے عرصے میں کیا تھا کہ جس پہلی انٹرنیشنل کی تعمیر میں وہ تین دہائیوں سے جان توڑ محنت کرتے رہے اس کو خود اپنے ہاتھوں سے ختم بھی کر دیا تھا تا کہ مایوس اور بدگمان لوگوں کے ہجوم سے جان چھڑا کر ایک نئی تازہ دم انٹرنیشنل کے لئے جدوجہد کی جاسکے۔

مارکسزم کی پوری تاریخ ایسی ہی جراتمندانہ اور ولولہ انگیز جدوجہدوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ انتہائی بزدلانہ، کم ہمت اور لاغر فکر اور شعور کی علامت ہوتی ہے کہ کسی سیاسی مسئلے کے حل میں تعداد کو بطور دلیل استعمال کیا جائے۔ ایسا ممکن ہوتا ہے کہ سیاسی اور نظریاتی سوالات اور بحث و مباحثے کو پس پشت ڈال کر ایک بڑی تعداد کو بعض اوقات مختصر مدت کے لئے اور بعض مخصوص کیفیات میں طویل مدت کے لئے بھی بچایا جا سکتا ہے لیکن اس عمل کے دوران ناقابل تلافی نقصان کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم دنیا بھر کی سٹالنسٹ پارٹیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ غلط نظریات پر کاربند ہونے کے باوجود یہ پارٹیاں ایک طویل عرصے سے چھوٹی یا بڑی تعداد کے ساتھ مختلف ممالک میں موجود ہیں لیکن ان کی تعمیر میں یہ خرابی ہے کہ یہ کبھی انقلابی پارٹیاں نہیں بن سکیں اور نہ بن سکتی ہیں۔ عددی طور پر ان میں سے بعض آج بھی کافی بڑی ممبرشپ کے ساتھ اچھی خاصی عوامی حمایت بھی رکھتی ہیں لیکن درست نظریات نہ ہونے کی وجہ سے ان کا عملی کردار اصلاح پسند بورژوا پارٹیوں سے بھی زیادہ گھناؤنا ہے۔ اس لئے کبھی بھی نظریات اور سیاست سے پہلے تعداد کا سوال اہم نہیں ہوتا۔

این ایس ایف کی اپنی تاریخ اس حوالے سے بہت اہم اسباق فراہم کرتی ہے کہ پاکستانی کشمیر کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہونے کے باوجود نظریات کی پیاس نے این ایس ایف کے کارکنان کو مختلف سیاسی رحجانات اور پارٹیوں سے اثرات قبول کرنے پر مجبور کیا۔ کسی سیاسی بحث کو دبا کر اگر ٹوٹ پھوٹ کو عارضی طور پر روکنے میں کامیابی حاصل کی گئی تو بہت جلد یہ عمل زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتا رہا ہے۔ محض اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے اگر ایک جانب سے نظریات کو پس پشت دھکیلا جاتا رہا تو اسی لمحے کسی اور سمت سے یہ بحث ابھرتی رہی ہے اور دھڑے بندی کا موجب بنتی رہی ہے۔ این ایس ایفکی تاریخ اس بات کے ٹھوس شواہد فراہم کرتی ہے کہ صرف تفصیلی نظریاتی وضاحت اور درست نظریات کا فروغ و پھیلاؤ واحد طریقہ ہے جو تنظیم میں حقیقی اتحاد اور اس کی طاقت میں اضافے کی ضمانت فراہم کرسکتاہے۔ اسی سیاسی و نظریاتی ارتقاء نے اس تنظیم کو زندہ رکھااور آگے بڑھایا۔ تعداد کو اگر کچھ عرصے تک برقرار رکھ بھی لیا جاتا ہے تو یہ اس کے ایک انقلابی رحجان ہو نے کا ثبوت نہیں ہو گا یا محض ٹوٹ پھوٹ سے بچنے کے لئے آج جس بحث سے اجتناب کیا جا رہا ہے اس سے یہ سوالات اور بحث مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے ختم نہیں ہو جائے گی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ این ایس ایفجس جدوجہد کا حصہ ہے وہ اس خطے کے کروڑوں بلکہ اربوں انسانوں کی آزادی اور نجات کی جدوجہد ہے اور آنے والے مہینوں اور سالوں میں ہزاروں، لاکھوں نئے نوجوان اس عظیم جدوجہد کا حصہ بنیں گے اور انتہائی بے رحمانہ انداز میں اس سارے سفر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے آگے کی راہیں متعین کریں گے۔ اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آج کچھ لوگ اس بحث کو دبانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ہمیشہ کے لئے دب جائے گی۔

جس بحث کو آج دبایا جا رہا ہے یا مختلف جھوٹے بہتانوں کے ذریعے اس کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ محض مخالفین کی تنقید نہیں ہے بلکہ اس بحث و مباحثے کے ساتھ این ایس ایف کا مستقبل وابستہ ہو چکا ہے۔ جن سوالات کو آج سطحی اور عامیانہ فکر کی پیدا کردہ لاپرواہی سے نظر انداز کیا جا رہا ہے یہی وہ سوالات ہیں جن پر این ایس ایف کے مستقبل کا انحصار ہے۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ باشعور نوجوان جلد یا بدیر این ایس ایف کے اندر بھی اور باہر بھی ان تمام سوالات کا جواب تلاش کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی کو درست بنیادوں پر ضرور آگے بڑھائیں گے۔ این ایس ایف جس جدوجہد کا تسلسل ہے اس بندھن کو اس کے درخشاں ماضی کے ساتھ بھی استوار کیا جائے گا اور مستقبل کی جدوجہد کے لئے عالمی محنت کش طبقے کے ساتھ ٹوٹے ہو ئے تعلق کو بھی ازسر نو تشکیل دیا جائے گا۔ ماضی سے کی جانے والی چشم پوشی کو بھی اسی طرح حقارت سے مسترد کیا جائے گا جس طرح ماضی کی دروغ گوئی پر مبنی وضاحت اور پرستش کورد کیا جائے گا۔ یا تو سیاسی اور نظریاتی بحث و مباحثے کو دوبارہ اس کا جائز مقام حاصل ہو گا اور این ایس ایف ایک حقیقی انقلابی قوت بننے کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھے گی جس کا حتمی مقصد ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا ہو گا اور اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو بھی این ایس ایف کی جدوجہد کو آنے والی نسل کے نوجوان کسی اور نام سے آگے بڑھائیں گے اور ہر حال میں پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ دوسری جانب سازشی تھیوریوں کی بچگانہ وضاحتوں سے بہلنے والے رحجانات ہی اگر این ایس ایف پر حاوی رہتے ہیں تو اگلے کچھ عرصے میں اس دھڑے کا مستقبل بھی دوسرے دھڑوں سے زیادہ مختلف نہیں رہے گا بلکہ ان کے لئے پریوں کے دیس کو شاید خود یہاں نازل ہونا پڑے گا۔

 

 
مطبوعات